WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 29 من سورة سُورَةُ الأَحۡقَافِ

Al-Ahqaf • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

﴿ وَإِذْ صَرَفْنَآ إِلَيْكَ نَفَرًۭا مِّنَ ٱلْجِنِّ يَسْتَمِعُونَ ٱلْقُرْءَانَ فَلَمَّا حَضَرُوهُ قَالُوٓا۟ أَنصِتُوا۟ ۖ فَلَمَّا قُضِىَ وَلَّوْا۟ إِلَىٰ قَوْمِهِم مُّنذِرِينَ ﴾

“AND LO! We caused a group of unseen beings to incline towards thee, [O Muhammad,] so that they might give ear to the Qur’an; and so, as soon as they became aware of it, they said [unto one another], “Listen in silence!” And when [the recitation] was ended, they returned to their people as warners.”

📝 التفسير:

آیت 29 { وَاِذْ صَرَفْنَآ اِلَیْکَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ یَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ } ”اور اے نبی ﷺ ! جب ہم نے آپ کی طرف متوجہ کردیا جنات کی ایک جماعت کو کہ وہ قرآن سننے لگے۔“ { فَلَمَّا حَضَرُوْہُ قَالُوْٓا اَنْصِتُوْا } ”تو جب وہ وہاں پہنچے تو انہوں نے کہا : چپ ہو جائو !“ تلاوتِ قرآن کی سماعت کے بارے میں خود قرآن کا بھی یہی حکم ہے : { وَاِذَا قُرِیَٔ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَہٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ } الاعراف ”اور جب قرآن پڑھا جار ہا ہو تو اسے پوری توجہ کے ساتھ سنا کرو اور خاموش رہا کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے“۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ طبعاً نیک اور شریف قسم کے ِجنات ّ تھے۔ اگلی آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ماننے والے اہل کتاب جن تھے۔ چناچہ وہ فوراً ہی اللہ کے کلام کو پہچان گئے اور اس کو پورے ادب و احترم سے سننے لگے۔ { فَلَمَّا قُضِیَ وَلَّــوْا اِلٰی قَوْمِہِمْ مُّنْذِرِیْنَ } ”پھر جب قراءت ختم ہوئی تو وہ پلٹے اپنی قوم کی طرف خبردار کرنے والے بن کر۔“