Muhammad • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN
﴿ ذَٰلِكَ بِأَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ٱتَّبَعُوا۟ ٱلْبَٰطِلَ وَأَنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱتَّبَعُوا۟ ٱلْحَقَّ مِن رَّبِّهِمْ ۚ كَذَٰلِكَ يَضْرِبُ ٱللَّهُ لِلنَّاسِ أَمْثَٰلَهُمْ ﴾
“This, because they who are bent on denying the truth pursue falsehood, whereas they who have attained to faith pursue [but] the truth [that flows] from their Sustainer. In this way does God set forth unto man the parables of their true state.”
آیت 3{ ذٰلِکَ بِاَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ } ”یہ اس لیے کہ جن لوگوں نے کفر کیا انہوں نے باطل کی پیروی کی“ { وَاَنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِنْ رَّبِّہِمْ } ”اور جو لوگ ایمان لائے انہوں نے حق کی پیروی کی ‘ جو ان کے رب کی طرف سے آیا ہے۔“ { کَذٰلِکَ یَضْرِبُ اللّٰہُ لِلنَّاسِ اَمْثَالَہُمْ } ”اسی طرح اللہ لوگوں کے لیے ان کی مثالیں بیان کرتا ہے۔“ اگلی آیت مشکلات القرآن میں سے ہے۔ اس کی بنیادی وجہ الفاظ کی وہ تقدیم و تاخیر ہے جو ہمیں قرآن کی آیات میں بعض جگہ نظر آتی ہے۔ جیسا کہ کئی مرتبہ وضاحت کی جا چکی ہے ‘ الفاظ کی یہ تقدیم و تاخیر قرآن کا خاص اسلوب ہے اور اس کا مقصد کلام کی روانی میں ایک خاص ردھم اور آہنگ کو قائم رکھنا ہوتا ہے۔ چناچہ قرآن میں جہاں کہیں بھی ایسا معاملہ ہو وہاں مفہوم کے درست ادراک کے لیے الفاظ کی اصل ترتیب کے بارے میں گہرے غور و فکر کی ضرورت ہوتی ہے۔ چناچہ اس آیت کے مطالعے کے لیے بھی خصوصی توجہ درکار ہے۔