WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 7 من سورة سُورَةُ الحُجُرَاتِ

Al-Hujuraat • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

﴿ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ فِيكُمْ رَسُولَ ٱللَّهِ ۚ لَوْ يُطِيعُكُمْ فِى كَثِيرٍۢ مِّنَ ٱلْأَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ ٱلْإِيمَٰنَ وَزَيَّنَهُۥ فِى قُلُوبِكُمْ وَكَرَّهَ إِلَيْكُمُ ٱلْكُفْرَ وَٱلْفُسُوقَ وَٱلْعِصْيَانَ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلرَّٰشِدُونَ ﴾

“And know that God’s Apostle is among you: were he to comply with your inclinations in each and every case, you would be bound to come to harm [as a community]. But as it is, God has caused [your] faith to be dear to you, and has given it beauty in your hearts, and has made hateful to you all denial of the truth, and all iniquity, and all rebellion [against what is good]. Such indeed are they who follow the right course”

📝 التفسير:

آیت 7 { وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ فِیْکُمْ رَسُوْلَ اللّٰہِ } ”اور جان لو کہ تمہارے مابین اللہ کا رسول موجود ہے۔“ انسانی سطح پر حضور ﷺ کے مختلف لوگوں کے ساتھ مختلف رشتے تھے۔ مثلاً بعض خواتین کے آپ ﷺ شوہر اور بعض کے باپ تھے۔ مردوں میں سے بعض کے آپ ﷺ داماد تھے ‘ بعض کے بھتیجے اور بعض کے سسر تھے۔ چناچہ اس حساس معاملے میں دو ٹوک انداز میں متنبہ کردیا گیا کہ خبردار ! تم میں سے کوئی کسی وقت یہ حقیقت نہ بھولنے پائے کہ محمد بن عبداللہ جو تمہارے درمیان موجود ہیں یہ اللہ کے رسول ﷺ ہیں۔ لہٰذا آپ ﷺ کی یہ حیثیت تم میں سے ہر ایک کے سامنے ہر حال میں مقدم رہنی چاہیے۔ آپ ﷺ کا کوئی رشتہ دار محض اپنے کسی مخصوص رشتے کی بنا پر آپ ﷺ کے ساتھ کوئی معاملہ کرنے کا کبھی خیال بھی ذہن میں نہ لائے۔ { لَوْ یُطِیْعُکُمْ فِیْ کَثِیْرٍ مِّنَ الْاَمْرِ لَعَنِتُّمْ } ”اگر وہ تمہارا کہنا مانا کریں اکثر معاملات میں تو تم لوگ مشکل میں پڑ جائو“ چناچہ تم ہر معاملے میں رسول اللہ ﷺ کی مرضی اور منشاء کو پیش نظر رکھا کرو۔ آپ ﷺ سے یہ توقع نہ رکھو کہ آپ ﷺ فیصلے کرتے ہوئے تم لوگوں کی مرضی کا خیال رکھیں گے۔ { وَلٰکِنَّ اللّٰہَ حَبَّبَ اِلَیْکُمُ الْاِیْمَانَ وَزَیَّنَہٗ فِیْ قُلُوْبِکُمْ } ”لیکن اے نبی ﷺ کے ساتھیو ! اللہ نے تمہارے نزدیک ایمان کو بہت محبوب بنا دیا ہے اور اسے تمہارے دلوں کے اندر کھبا دیا ہے“ { وَکَرَّہَ اِلَیْکُمُ الْکُفْرَ وَالْفُسُوْقَ وَالْعِصْیَانَ } ”اوراُس نے تمہارے نزدیک بہت ناپسندیدہ بنا دیا ہے کفر ‘ فسق اور نافرمانی کو۔“ { اُولٰٓئِکَ ہُمُ الرّٰشِدُوْنَ } ”یہی لوگ ہیں جو صحیح راستے پر ہیں۔“ صحابہ کرام رض کی شان کے حوالے سے قرآن کی یہ آیت خصوصی اہمیت اور عظمت کی حامل ہے۔