WhatsApp Book A Free Trial
https://forums.brawlminus.net/ https://zadcourses.com/blog https://export.nabtah.net/
القائمة

🕋 تفسير الآية 42 من سورة سُورَةُ المَائـِدَةِ

Al-Maaida • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

﴿ سَمَّٰعُونَ لِلْكَذِبِ أَكَّٰلُونَ لِلسُّحْتِ ۚ فَإِن جَآءُوكَ فَٱحْكُم بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ ۖ وَإِن تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَن يَضُرُّوكَ شَيْـًۭٔا ۖ وَإِنْ حَكَمْتَ فَٱحْكُم بَيْنَهُم بِٱلْقِسْطِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلْمُقْسِطِينَ ﴾

“those who eagerly listen to any falsehood, greedily swallowing all that is evil! Hence, if they come to thee [for judgment], thou mayest either judge between them or leave them alone: for, if thou leave them alone, they cannot harm thee in any way. But if thou dost judge, judge between them with equity: verily, God knows those who act equitably.”

📝 التفسير:

آیت 42 سَمّٰعُوْنَ لِلْکَذِبِ اَکّٰلُوْنَ للسُّحْتِ ط فَاِنْ جَآءُ وْکَ فَاحْکُمْ بَیْنَہُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْہُمْ ج آپ ﷺ کو یہ اختیار دیا جاتا ہے کہ آپ چاہیں تو ان کا مقدمہ سنیں اور فیصلہ کردیں اور چاہیں تو مقدمہ لینے ہی سے انکار کردیں ‘ کیونکہ ان کی نیت درست نہیں ہوتی اور وہ آپ ﷺ ‘ کا فیصلہ لینے میں سنجیدہ نہیں ہوتے۔ لہٰذا ایسے لوگوں پر اپنا وقت ضائع کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن یہ اندیشہ بھی تھا کہ وہ پراپیگنڈا کریں گے کہ دیکھو جی ہم تو گئے تھے محمد ﷺ کے پاس مقدمہ لے کر ‘ یہ کیسے نبی ہیں کہ مقدمے کا فیصلہ کرنے کو ہی تیار نہیں ! اس ضمن میں بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضور ﷺ کو اطمینان دلایا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ اس کی پرواہ نہ کریں۔وَاِنْ تُعْرِضْ عَنْہُمْ فَلَنْ یَّضُرُّوْکَ شَیْءًا ط۔یعنی ان کے مخالفانہ پراپیگنڈے سے قطعاً فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔