https://nabtah.net/ https://devrumaroof.techarea.co.id/ https://siami.uki.ac.id/ https://www.ir-webdesign.com/ https://matedu.matabacus.ac.ug/ https://www.banglatutorials.com/products https://www.kingdom-theology.id/ https://apdesign.cz/aktuality https://www.ir-webdesign.com/kontakt
| uswah-academy
WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 14 من سورة سُورَةُ النَّجۡمِ

An-Najm • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

﴿ عِندَ سِدْرَةِ ٱلْمُنتَهَىٰ ﴾

“by the lote-tree of the farthest limit,”

📝 التفسير:

آیت 14{ عِنْدَ سِدْرَۃِ الْمُنْتَہٰی۔ } ”سدرۃ المنتہیٰ کے پاس۔“ یہ ساتویں آسمان پر وہ مقام ہے جس سے آگے کسی مخلوق کو جانے کی اجازت نہیں۔ اس انتہائی حد کی علامت بیری کا وہ درخت ہے جسے آیت میں ”سِدْرَۃِ الْمُنْتَہٰی“ کا نام دیا گیا ہے۔ اس مقام کی کیفیت اور نوعیت ہمارے تصور سے ماوراء ہے۔ معراج کے موقع پر ”سِدْرَۃِ الْمُنْتَہٰی“ پر حضرت جبرائیل علیہ السلام اپنی اصل ملکوتی شکل میں ظاہر ہوئے اور آگے جانے سے معذرت کرلی۔