WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 13 من سورة سُورَةُ الرَّحۡمَٰن

Ar-Rahmaan • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

﴿ فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴾

“Which, then, of your Sustainer’s powers can you disavow?”

📝 التفسير:

آیت 13 { فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ۔ } ”تو تم دونوں گروہ اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے ؟“ عام طور پر اٰلَآئِ کا ترجمہ ”نعمتیں“ کیا جاتا ہے ‘ لیکن اس لفظ میں نعمتوں کے ساتھ ساتھ قدرتوں کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔ چناچہ اس سورت میں بھی اس لفظ سے کہیں اللہ کی نعمتیں مراد ہیں اور کہیں اس کی قدرتیں۔ تُکَذِّبٰنِ تثنیہ کا صیغہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سورت میں جنوں اور انسانوں سے مسلسل ایک ساتھ خطاب ہو رہا ہے۔ آگے چل کر آیت 33 میں یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ کے خطاب سے یہ بات مزید واضح ہوجائے گی۔ 1