WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 105 من سورة سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Al-An'aam • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

﴿ وَكَذَٰلِكَ نُصَرِّفُ ٱلْءَايَٰتِ وَلِيَقُولُوا۟ دَرَسْتَ وَلِنُبَيِّنَهُۥ لِقَوْمٍۢ يَعْلَمُونَ ﴾

“And thus do We give many facets to Our messages. And to the end that they might say, "Thou hast taken [all this] well to heart," and that We might make it clear unto people of [innate] knowledge,”

📝 التفسير:

آیت 105 وَکَذٰلِکَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ وَلِیَقُوْلُوْا دَرَسْتَ ہم اپنی آیات بار بار مختلف طریقوں سے بیان کرتے ہیں ‘ اپنی دلیلیں مختلف اسالیب سے پیش کرتے ہیں تاکہ ان پر حجت قائم ہو اور یہ تسلیم کریں کہ آپ ﷺ نے سمجھانے کا حق ادا کردیا ہے۔ دَرَسَ ‘ یَدْرُسُ کے معنی ہیں لکھنا اور لکھنے کے بعد مٹانا ‘ پھر لکھنا ‘ پھر مٹانا۔ جیسے بچے شروع میں جب لکھنا سیکھتے ہیں تو مشق کے لیے بار بار لکھتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ہمارے ہاں تختی استعمال ہوتی تھی جو اب متروک ہوگئی ہے۔ یہاں تدریجاً بار بار پڑھانے کے معنی میں یہ لفظ دَرَسْتَ استعمال ہوا ہے۔