WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 13 من سورة سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Al-An'aam • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

﴿ ۞ وَلَهُۥ مَا سَكَنَ فِى ٱلَّيْلِ وَٱلنَّهَارِ ۚ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ ﴾

“although His is all that dwells in the night and the day, and He alone is all-hearing, all-knowing.”

📝 التفسير:

آیت 13 وَلَہٗ مَا سَکَنَ فِی الَّیْلِ وَالنَّہَارِط وَہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ یہاں سَکَنَ کے مقابل لفظ تَحَرَّکَ محذوف ہے۔ ایسے مقابل کے الفاظ کو عام طور پر قرآن مجید میں حذف کردیا جاتا ہے تاکہ آدمی خودس مجھے۔ جیسے یہاں رات کے ساتھ سکون کا لفظ آیا ہے اور اس کے ساتھ ہی دن کا ذکر کردیا گیا ہے ‘ جبکہ دِن کا وقت سکون کے لیے نہیں ہے۔ لہٰذا بات اس طرح واضح ہوجاتی ہے : وَلَہٗ مَا سَکَنَ فِی الَّیْلِ وَمَا تَحَرَّ کَ فِی النَّھَار اور اسی کا ہے جو کچھ رات کے وقت سکون پکڑتا ہے اور دن کے وقت متحرک ہوجاتا ہے۔