WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 136 من سورة سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Al-An'aam • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

﴿ وَجَعَلُوا۟ لِلَّهِ مِمَّا ذَرَأَ مِنَ ٱلْحَرْثِ وَٱلْأَنْعَٰمِ نَصِيبًۭا فَقَالُوا۟ هَٰذَا لِلَّهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَٰذَا لِشُرَكَآئِنَا ۖ فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمْ فَلَا يَصِلُ إِلَى ٱللَّهِ ۖ وَمَا كَانَ لِلَّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَىٰ شُرَكَآئِهِمْ ۗ سَآءَ مَا يَحْكُمُونَ ﴾

“AND OUT OF whatever He has created of the fruits of the field and the cattle, they assign unto God a portion, saying, "This belongs to God"-or so they [falsely] claim - "and this is for those beings who, we are convinced, have a share in God's divinity." But that which is assigned to the beings associated in their minds with God does not bring [them] closer to God - whereas that which is assigned to God brings [them but] closer to those beings to whom they ascribe a share in His divinity. Bad, indeed, is their judgment!”

📝 التفسير:

آیت 136 وَجَعَلُوْا لِلّٰہِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْاَنْعَامِ نَصِیْبًا ایک بڑے خدا کو مان کر چھوٹے خداؤں کو اس کی الوہیت میں شریک کردینا ہی در اصل شرک ہے۔ اس میں بڑے خدا کا انکار نہیں ہوتا۔ جیسے ہندوؤں میں مہا دیو تو ایک ہی ہے جب کہ چھوٹی سطح پر دیوی دیوتا بیشمار ہیں۔ اسی طرح انگریزی میں بھی بڑے G سے لکھے جانے والا God ہمیشہ ایک ہی رہا ہے۔ وہ Omnipotent ہے ‘ Omniscient ہے ‘ Omnipresent ہے ‘ وہ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ہے ‘ وہ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ ہے ‘ وہ ہر جگہ موجود ہے۔ یہ اس کی صفات ہیں ‘ یہ اس کے Attributes ہیں۔ لہٰذا اس کے لیے تو G بڑا capital ہی آئے گا ‘ لیکن چھوٹے g سے لکھے جانے والے gods اور goddesses بیشمار ہیں۔ اسی طرح اہل عرب کا عقیدہ تھا کہ اللہ تو ایک ہی ہے ‘ کائنات کا خالق بھی وہی ہے ‘ لیکن یہ جو دیویاں اور دیوتا ہیں ‘ ان کا بھی اس کی خدائی میں کچھ دخل اور اختیار ہے ‘ یہ اللہ کے ہاں سفارش کرتے ہیں ‘ اللہ تعالیٰ نے اپنے اختیارات میں سے کچھ حصہ ان کو بھی سونپ رکھا ہے ‘ لہٰذا اگر ان کی کوئی ڈنڈوت کی جائے ‘ نذرانے دیے جائیں ‘ انہیں خوش کیا جائے ‘ تو اس سے دنیا کے کام چلتے رہتے ہیں۔ اہل عرب کے معروف ذرائع معاش دو ہی تھے۔ وہ بکریاں پالتے تھے یا کھیتی باڑی کرتے تھے۔ اپنے عقیدے کے مطابق ان کا طریقہ یہ تھا کہ مویشیوں اور فصل میں سے وہ اللہ کے نام کا ایک حصہ نکال کر صدقہ کرتے تھے جب کہ ایک حصہ الگ نکال کر بتوں کے نام پر دیتے تھے۔ یہاں تک تو وہ اپنے تئیں انصاف سے کام لیتے تھے کہ کھیتیوں کی پیداوار اور مال مویشیوں میں سے اللہ کے لیے بھی حصہ نکال لیا اور اپنے چھوٹے خداؤں کے لیے بھی۔ اب اس کے بعد کیا تماشا ہوتا تھا وہ آگے دیکھئے :فَقَالُوْا ہٰذَا لِلّٰہِ بِزَعْمِہِمْ وَہٰذَا لِشُرَکَآءِنَاج فَمَا کَانَ لِشُرَکَآءِہِمْ فَلاَ یَصِلُ اِلَی اللّٰہِج وَمَا کَانَ لِلّٰہِ فَہُوَ یَصِلُ اِلٰی شُرَکَآءِہِمْ ط اب اگر کہیں کسی وقت کوئی دقت آگئی ‘ کوئی ضرورت پڑگئی تو اللہ کے حصے میں سے کچھ نکال کر کام چلا لیتے تھے مگر اپنے بتوں کے حصے کو ہاتھ نہیں لگاتے تھے۔ گویا بت تو ہر وقت ان کے سروں پر کھڑے ہوتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ اگر یہ بت ناراض ہوگئے تو فوراً ان کی شامت آجائے گی ‘ لیکن اللہ تو معاذ اللہ ذرا دور تھا ‘ اس لیے اس کے حصے کو اپنے استعمال میں لایا جاسکتا تھا۔ ان کی اس سوچ کو اس مثال سے سمجھا جاسکتا ہے کہ ہمارے ہاں دیہات میں ایک عام دیہاتی پٹواری کو ڈی سی کے مقابلے میں زیادہ اہم سمجھتا ہے۔ اس لیے کہ پٹواری سے اسے براہ راست سابقہ پڑتا ہے ‘ جب کہ ڈی سی کی حیثیت کا اسے کچھ اندازہ نہیں ہوتا۔ بہر حال یہ تھی وہ صورت حال جس میں ان کے شریکوں کے لیے مختص کیا گیا حصہ اللہ کو نہیں پہنچ سکتا تھا ‘ جب کہ اللہ کا حصہ ان کے شریکوں تک پہنچ جاتا تھا۔