WhatsApp Book A Free Trial
https://forums.brawlminus.net/ https://zadcourses.com/blog https://export.nabtah.net/
القائمة

🕋 تفسير الآية 137 من سورة سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Al-An'aam • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

﴿ وَكَذَٰلِكَ زَيَّنَ لِكَثِيرٍۢ مِّنَ ٱلْمُشْرِكِينَ قَتْلَ أَوْلَٰدِهِمْ شُرَكَآؤُهُمْ لِيُرْدُوهُمْ وَلِيَلْبِسُوا۟ عَلَيْهِمْ دِينَهُمْ ۖ وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ مَا فَعَلُوهُ ۖ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ ﴾

“And, likewise, their belief in beings or powers that are supposed to have a share in God's divinity makes [even] the slaying of their children seem goodly to many of those who ascribe divinity to aught beside God, thus bringing them to ruin and confusing them in their faith. Yet, unless God had so willed, they would not be doing all this: stand, therefore, aloof from them and all their false imagery!”

📝 التفسير:

آیت 137 وَکَذٰلِکَ زَیَّنَ لِکَثِیْرٍ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ قَتْلَ اَوْلاَدِہِمْ شُرَکَآؤُہُمْ اس میں اشارہ ہے مشرکین کے ان اعتقادات کی طرف جن کے تحت وہ اپنے بچوں کو جنوں یا مختلف بتوں کے نام پر قربان کردیتے تھے۔ آج بھی ہندوستان میں اس طرح کے واقعات سننے میں آتے ہیں کہ کسی نے اپنے بچے کو دیوی کی بھینٹ چڑھا دیا۔ وَلَوْ شَآء اللّٰہُ مَا فَعَلُوْہُ فَذَرْہُمْ وَمَا یَفْتَرُوْنَ ۔دین کو مشتبہ کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ ایسے عقائد اور ایسی چیزیں بھی دین میں شامل کردی جائیں جن کا دین سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ یہ قتل اولاد بھی اس کی مثال ہے۔ ظاہر ہے یہ سب کچھ وہ دین اور مذہب کے نام پر ہی کرتے تھے۔ فرمایا کہ انہیں چھوڑ دیں کہ اپنی افترا پردازیوں میں لگے رہیں۔