WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 143 من سورة سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Al-An'aam • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

﴿ ثَمَٰنِيَةَ أَزْوَٰجٍۢ ۖ مِّنَ ٱلضَّأْنِ ٱثْنَيْنِ وَمِنَ ٱلْمَعْزِ ٱثْنَيْنِ ۗ قُلْ ءَآلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ ٱلْأُنثَيَيْنِ أَمَّا ٱشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ أَرْحَامُ ٱلْأُنثَيَيْنِ ۖ نَبِّـُٔونِى بِعِلْمٍ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ ﴾

“[His followers would have it that, in certain cases, any of these] four kinds of cattle of either sex [is unlawful to man]: either of the two sexes of sheep and of goats. Ask [them]: "Is it the two males that He has forbidden, or the two females, or that which the wombs of the two females may contain? Tell me what you know in this respect, if what you say is true."”

📝 التفسير:

آیت 143 ثَمٰنِیَۃَ اَزْوَاجٍ ج یہ اس بات کا جواب ہے جو انہوں نے حاملہ ماداؤں کے بارے میں کہی تھی کہ ان کے پیٹوں میں جو بچے ہیں ان کا گوشت صرف مرد ہی کھا سکتے ہیں ‘ جب کہ عورتوں پر یہ حرام ہے۔ ہاں اگر مرا ہوا بچہ پیدا ہو تو اس کا گوشت مردوں کے ساتھ عورتیں بھی کھا سکتی ہیں۔ مِنَ الضَّاْنِ اثْنَیْنِ وَمِنَ الْمَعْزِ اثْنَیْنِ ط قُلْ ءٰٓ الذَّکَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْہِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ ط غور طلب نکتہ ہے کہ اس میں حرمت آخر کہاں سے آئی ہے۔ اللہ نے ان میں سے کس کو حرام کیا ہے ؟ نر کو ‘ مادہ کو ‘ یا بچے کو ؟ پھر یہ کہ اگر کوئی شے حرام ہے تو سب کے لیے ہے اور اگر حرام نہیں ہے تو کسی کے لیے بھی نہیں ہے۔ یہ تم نے جو نئے نئے قوانین بنا لیے ہیں وہ کہاں سے لے آئے ہو ؟