Al-An'aam • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN
﴿ أَوْ تَقُولُوا۟ لَوْ أَنَّآ أُنزِلَ عَلَيْنَا ٱلْكِتَٰبُ لَكُنَّآ أَهْدَىٰ مِنْهُمْ ۚ فَقَدْ جَآءَكُم بَيِّنَةٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ وَهُدًۭى وَرَحْمَةٌۭ ۚ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن كَذَّبَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَصَدَفَ عَنْهَا ۗ سَنَجْزِى ٱلَّذِينَ يَصْدِفُونَ عَنْ ءَايَٰتِنَا سُوٓءَ ٱلْعَذَابِ بِمَا كَانُوا۟ يَصْدِفُونَ ﴾
“or lest you say, "If a divine writ had been bestowed from on high upon us, we would surely have followed its guidance better than they did." And so, a clear evidence of the truth has now come unto you from your Sustainer, and guidance, and grace. Who, then, could be more wicked than he who gives the lie to God's messages, and turns away from them in disdain? We shall requite those who turn away from Our messages in disdain with evil suffering for having thus turned away!”
آیت 157 اَوْ تَقُوْلُوْا لَوْ اَنَّآ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْکِتٰبُ لَکُنَّآ اَہْدٰی مِنْہُمْ ج۔یعنی تم روز قیامت یہ دعویٰ لے کر نہ بیٹھ جاؤ کہ ان بیوقوفوں نے تو اللہ کی کتابوں تورات اور انجیل کی قدر ہی نہیں کی۔ ہمیں اللہ نے کتاب دی ہوتی تو پھر ہم بتاتے کہ کتاب اللہ کی قدر کیسے کی جاتی ہے۔ فَقَدْ جَآءَ کُمْ بَیِّنَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَہُدًی وَّرَحْمَۃٌ ج۔یعنی تمہارے پاس اللہ کا رسول اس کی کتاب لے کر آچکا ہے جس میں واضح اور مستحکم احکام موجود ہیں۔ اس بَیِّنَۃ کی وضاحت سورة البیّنہ کی آیت 2 اور 3 میں اس طرح کی گئی ہے : رَسُوْلٌ مِّنَ اللّٰہِ یَتْلُوْا صُحُفًا مُّطَہَّرَۃً۔ فِیْہَا کُتُبٌ قَیِّمَۃٌ اللہ کی طرف سے ایک رسول جو مقدس صحیفے پڑھ کر سناتا ہے ‘ جن میں بالکل درست احکام ہیں۔