WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 159 من سورة سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Al-An'aam • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

﴿ إِنَّ ٱلَّذِينَ فَرَّقُوا۟ دِينَهُمْ وَكَانُوا۟ شِيَعًۭا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِى شَىْءٍ ۚ إِنَّمَآ أَمْرُهُمْ إِلَى ٱللَّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُوا۟ يَفْعَلُونَ ﴾

“VERILY, as for those who have broken the unity of their faith and have become sects - thou hast nothing to do with them. Behold, their case rests with God: and in time He will make them understand what they were doing.”

📝 التفسير:

آیت 159 اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَہُمْ وَکَانُوْا شِیَعًا لَّسْتَ مِنْہُمْ فِیْ شَیْءٍ ط۔یہ وہی وحدت ادیان کا تصور ہے جو سورة البقرۃ کی آیت 213 میں دیا گیا ہے : کَان النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً قف کہ پہلے تمام لوگ ایک ہی دین پر تھے۔ پھر لوگ صراط مستقیم سے منحرف ہوتے گئے اور مختلف گروہوں نے اپنے اپنے راستے الگ کرلیے۔ چناچہ حضور ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ جو لوگ صراط مستقیم کو چھوڑ کر اپنی اپنی خود ساختہ پگڈنڈیوں پر چل رہے ہیں وہ سب ضلالت اور گمراہی میں پڑے ہیں اور آپ ﷺ کا ان گمراہ لوگوں سے کوئی تعلق نہیں۔