Al-An'aam • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN
﴿ قُلْ إِنَّنِى هَدَىٰنِى رَبِّىٓ إِلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ دِينًۭا قِيَمًۭا مِّلَّةَ إِبْرَٰهِيمَ حَنِيفًۭا ۚ وَمَا كَانَ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ ﴾
“SAY: "Behold, my Sustainer has guided me onto a straight way through an ever-true faith-the way of Abraham, who turned away from all that is false, and wa,. not of those who ascribe divinity to aught beside Him."”
آیت 161 قُلْ اِنَّنِیْ ہَدٰٹنِیْ رَبِّیْٓ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ج دِیْنًا قِیَمًا مِّلَّۃَ اِبْرٰہٖمَ حَنِیْفًاج وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ یہ خطاب واحد کے صیغے میں براہ راست حضور ﷺ سے ہے اور آپ ﷺ کی وساطت سے پوری امت سے۔ ذرا غور کریں 20 رکوعوں پر مشتمل اس سورت میں ایک دفعہ بھی یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کے الفاظ کے ساتھ اہل ایمان سے خطاب نہیں کیا گیا۔ کاش کہ ہم میں سے ہر شخص اس آیت کا مخاطب بننے کی سعادت حاصل کرسکے اور یہ اعلان کرسکے کہ مجھے تو میرے رب نے سیدھی راہ کی طرف ہدایت دے دی ہے۔ لیکن یہ تو تبھی ممکن ہوگا جب کوئی اللہ کی راہ ہدایت کو صدق دل سے اختیار کرے گا۔ اللّٰہُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَاْ مِنْھُمْ۔ آمین !