WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 41 من سورة سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Al-An'aam • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

﴿ بَلْ إِيَّاهُ تَدْعُونَ فَيَكْشِفُ مَا تَدْعُونَ إِلَيْهِ إِن شَآءَ وَتَنسَوْنَ مَا تُشْرِكُونَ ﴾

“Nay, but it is Him alone that you will invoke - whereupon He may, if He so wills, remove that [ill] which caused you to call unto Him; and you will have forgotten all that. to which you [now] ascribe divinity side by side with Him."”

📝 التفسير:

آیت 40 قُلْ اَرَءَ یْتَکُمْ اِنْ اَتٰٹکُمْ عَذَاب اللّٰہِ اَوْ اَتَتْکُمُ السَّاعَۃُ اَغَیْرَ اللّٰہِ تَدْعُوْنَج اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ یہ بھی متجسسانہ searching انداز میں ان سے سوال کیا جا رہا ہے۔ یہ ان کا معمول بھی تھا اور مشاہدہ بھی ‘ کہ جب بھی کبھی کوئی مصیبت آتی ‘ سمندر میں سفر کے دوران کبھی طوفان آجاتا ‘ موت سامنے نظر آنے لگتی تو پھر لات ‘ منات ‘ عزیٰ ‘ ہُبل وغیرہ میں سے کوئی بھی دوسراخدا انہیں یاد نہ رہتا۔ ایسے مشکل وقت میں وہ صرف اللہ ہی کو پکارتے تھے۔ چناچہ خود ان سے سوال کیا جا رہا ہے کہ ہر شخص ذرا اپنے دل سے پوچھے ‘ کہ آخر مصیبت کے وقت ہمیں ایک اللہ ہی کیوں یاد آتا ہے ؟ گویا ایک اللہ کو ماننا اور اس پر ایمان رکھنا انسان کی فطرت کا تقاضا ہے۔ کسی شخص میں شرافت کی کچھ بھی رمق موجود ہو تو اس طرح کے سوالات کے جواب میں اس کا دل ضرور گواہی دیتا ہے کہ ہاں بات تو ٹھیک ہے ‘ ایسے مواقع پر ہماری اندرونی کیفیت بالکل ایسی ہی ہوتی ہے اور بےاختیار اللہ ہی کا نام زبان پر آتا ہے۔