Al-An'aam • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN
﴿ قُلْ أَرَءَيْتَكُمْ إِنْ أَتَىٰكُمْ عَذَابُ ٱللَّهِ بَغْتَةً أَوْ جَهْرَةً هَلْ يُهْلَكُ إِلَّا ٱلْقَوْمُ ٱلظَّٰلِمُونَ ﴾
“Say: "Can you imagine what your condition will be if God's chastisement befalls you, either suddenly or in a [gradually] perceptible manner? [But then-] will any but evildoing folk [ever] be destroyed?”
آیت 47 قُلْ اَرَءَ یْتَکُمْ اِنْ اَتٰٹکُمْ عَذَاب اللّٰہِ بَغْتَۃً اَوْ جَہْرَۃً ہَلْ یُہْلَکُ الاَّ الْقَوْمُ الظّٰلِمُوْنَ یہ عذاب اچانک آئے یا بتدریج ‘ پیشگی اطلاع کے بغیر وارد ہوجائے یا ڈنکے کی چوٹ اعلان کر کے آئے ‘ ہلاک تو ہر صورت میں وہی لوگ ہوں گے جو رسول علیہ السلام کی دعوت کو ٹھکرا کر ‘ اپنی جانوں پر ظلم کے مرتکب ہوئے ہیں۔ اب انبیاء و رسل علیہ السلام کی بعثت کا وہی بنیادی مقصد بیان ہو رہا ہے جو اس سے پہلے ہم سورة النساء آیت 165 میں پڑھ چکے ہیں : رُسُلاً مُّبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ۔۔