WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 65 من سورة سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Al-An'aam • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

﴿ قُلْ هُوَ ٱلْقَادِرُ عَلَىٰٓ أَن يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًۭا مِّن فَوْقِكُمْ أَوْ مِن تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًۭا وَيُذِيقَ بَعْضَكُم بَأْسَ بَعْضٍ ۗ ٱنظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ ٱلْءَايَٰتِ لَعَلَّهُمْ يَفْقَهُونَ ﴾

“Say: "It is He alone who has the power to let loose upon you suffering from above you or from beneath your feet, or to confound you with mutual discord and let you taste the fear of one another." Behold how many facets we give to these messages, so that they might understand the truth.”

📝 التفسير:

آیت 65 قُلْ ہُوَ الْقَادِرُ عَلآی اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْکُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِکُمْ مثلاً آسمان کا کوئی ٹکڑا یا کوئی شہاب ثاقب meteorite گرجائے۔ آج کل ایسی خبریں اکثر سننے کو ملتی ہیں کہ اس طرح کی کوئی چیز زمین پر گرنے والی ہے ‘ لیکن پھر اللہ کے حکم سے وہ خلا میں ہی تحلیل ہوجاتی ہے۔ اسی طرح ozone کی تہہ بھی اللہ تعالیٰ نے زمین اور زمین والوں کے بچاؤ کے لیے پیدا کی ہے ‘ وہ چاہے تو اس حفاظتی چھتری کو ہٹا دے۔ بہرحال آسمانوں سے عذاب نازل ہونے کی کوئی بھی صورت ہوسکتی ہے اور اللہ جب چاہے یہ عذاب نازل ہوسکتا ہے۔اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِکُمْ یہ عذاب تمہارے قدموں کے نیچے سے بھی آسکتا ہے ‘ زمین پھٹ سکتی ہے ‘ زلزلے کے باعث شہروں کے شہر زمین میں دھنس سکتے ہیں۔ جیسا کہ حدیث میں خبر دی گئی ہے کہ قیامت سے پہلے تین بڑے بڑے خسف ہوں گے ‘ یعنی زمین وسیع پیمانے پر تین مختلف جگہوں سے دھنس جائے گی۔ عذاب کی دو شکلیں تو یہ ہیں ‘ اوپر سے یا قدموں کے نیچے سے۔اَوْ یَلْبِسَکُمْ شِیَعًا وَّیُذِیْقَ بَعْضَکُمْ بَاْسَ بَعْضٍ ط یہ خانہ جنگی کی صورت میں عذاب کا ذکر ہے کہ کسی ملک کے عوام یا قوم کے مختلف گروہ آپس میں لڑپڑیں۔ جیسے پنجابی اور اردو بولنے والے آپس میں الجھ جائیں ‘ بلوچ اور پختون ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوجائیں ‘ شیعہ سنی کو مارے اور سنی شیعہ کو۔ اللہ تعالیٰ کو آسمان سے کچھ گرانے کی ضرورت ہے نہ زمین کو دھنسانے کی۔ یہ گروہ بندی اور اس کی بنیاد پر باہمی خون ریزی عذاب الٰہی کی بد ترین شکل ہے ‘ جو آج مسلمانان پاکستان پر مسلط ہے۔ تقسیم ہند سے قبل جب ہندو سے مقابلہ تھا تو مسلمان ایک قوم تھے۔ پاکستان بنا تو اس کے تمام باسی پاکستانی تھے۔ اب یہی پاکستانی قوم چھوٹی چھوٹی قومیتوں اور عصبیتوں میں تحلیل ہوچکی ہے اور ہر گروہ دوسرے گروہ کا دشمن ہے۔ اُنْظُرْ کَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّہُمْ یَفْقَہُوْنَ ۔تصریف کے معنی ہیں گھمانا۔ ع اک پھول کا مضموں ہو تو سو رنگ سے باندھوں کے مصداق ایک ہی بات کو اسلوب بدل بدل کر ‘ مختلف انداز میں ‘ نئی نئی ترتیب کے ساتھ بیان کرنا۔