WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 67 من سورة سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Al-An'aam • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

﴿ لِّكُلِّ نَبَإٍۢ مُّسْتَقَرٌّۭ ۚ وَسَوْفَ تَعْلَمُونَ ﴾

“Every tiding [from God] has a term set for its fulfilment: and in time you will come to know [the truth]."”

📝 التفسير:

آیت 67 لِکُلِّ نَبَاٍ مُّسْتَقَرٌّز وَّسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ۔ ۔جیسا کہ سورة الانبیاء میں فرمایا گیا : وَاِنْ اَدْرِیْٓ اَقَرِیْبٌ اَمْ بَعِیْدٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ میں یہ تو نہیں جانتا کہ جس عذاب کی تمہیں دھمکی دی جا رہی ہے وہ قریب آچکا ہے یا دور ہے۔ البتہ یہ ضرورجانتا ہوں کہ اگر تمہاری روش یہی رہی تو یہ عذاب تم پر ضرورآ کر رہے گا۔اب وہ آیت آرہی ہے جس کا حوالہ سورة النساء کی آیت 140 میں آیا تھا کہ اللہ تعالیٰ تم پر کتاب میں یہ بات نازل کرچکا ہے کہ جب تم سنو کہ اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کیا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے تو ان کے پاس مت بیٹھو۔۔ ایمان کا کم از کم تقاضا ہے کہ ایسی محفل سے احتجاج کے طور پر واک آؤٹ تو ضرور کیا جائے۔