WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 78 من سورة سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Al-An'aam • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

﴿ فَلَمَّا رَءَا ٱلشَّمْسَ بَازِغَةًۭ قَالَ هَٰذَا رَبِّى هَٰذَآ أَكْبَرُ ۖ فَلَمَّآ أَفَلَتْ قَالَ يَٰقَوْمِ إِنِّى بَرِىٓءٌۭ مِّمَّا تُشْرِكُونَ ﴾

“Then, when he beheld the sun rising, he said, "This is my Sustainer! This one is the greatest [of all]!" - but when it [too] went down, he exclaimed: "O my people! Behold, far be it from me to ascribe divinity, as you do, to aught beside God!”

📝 التفسير:

آیت 77 فَلَمَّا رَاَالْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ ہٰذَا رَبِّیْج فَلَمَّآ اَفَلَ قَالَ لَءِنْ لَّمْ یَہْدِنِیْ رَبِّیْ لَاَکُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّیْنَ۔ ۔گویا یہ وہ الفاظ ہیں جن سے متبادر ہوتا ہے کہ شاید ابھی آپ علیہ السلام کا اپنا ذہنی اور فکری ارتقاء ہو رہا ہے۔ لیکن ان دونوں پہلوؤں پر غور و فکر کے بعد جو رائے بنتی ہے وہ یہی ہے کہ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم پر حجت قائم کرنے کے لیے یہ تدریجی انداز اختیار کیا تھا۔