WhatsApp Book A Free Trial
https://forums.brawlminus.net/ https://zadcourses.com/blog https://export.nabtah.net/
القائمة

🕋 تفسير الآية 93 من سورة سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Al-An'aam • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

﴿ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ ٱفْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَوْ قَالَ أُوحِىَ إِلَىَّ وَلَمْ يُوحَ إِلَيْهِ شَىْءٌۭ وَمَن قَالَ سَأُنزِلُ مِثْلَ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ ۗ وَلَوْ تَرَىٰٓ إِذِ ٱلظَّٰلِمُونَ فِى غَمَرَٰتِ ٱلْمَوْتِ وَٱلْمَلَٰٓئِكَةُ بَاسِطُوٓا۟ أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوٓا۟ أَنفُسَكُمُ ۖ ٱلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ ٱلْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ غَيْرَ ٱلْحَقِّ وَكُنتُمْ عَنْ ءَايَٰتِهِۦ تَسْتَكْبِرُونَ ﴾

“And who could be more wicked than he who invents a lie about God, or says, "This has been revealed unto me," the while nothing has been revealed to him? - or he who says, "I, too, can bestow from on high the like of what God has bestowed"? If thou couldst but see [how it will be] when these evildoers find themselves in the agonies of death, and the angels stretch forth their hands [and call]: "Give up your souls! Today you shall be requited with the suffering of humiliation for having attributed to God something that is not true, and for having persistently scorned His messages in your arrogance!"”

📝 التفسير:

آیت 93 وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِیَ اِلَیَّ وَلَمْ یُوْحَ اِلَیْہِ شَیْءٌ کوئی بات خود گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کردینا یا یہ کہنا کہ مجھ پر کوئی شے وحی کی گئی ہے یہ دونوں شناعت کے اعتبار سے برابر کے گناہ ہیں۔ تو اے اہل مکہ ! ذرا غورتو کرو کہ محمد ﷺ جنہوں نے تمہارے درمیان ایک عمر بسر کی ہے کیا آپ ﷺ کی سیرت و کردار ‘ آپ ﷺ کی زندگی میں تم کوئی ایسا پہلو دیکھتے ہو کہ آپ ﷺ اتنے بڑے بڑے گناہوں کے مرتکب بھی ہوسکتے ہیں ؟ اور ان دو باتوں کے سا تھ ایک تیسری بات :وَّمَنْ قَالَ سَاُنْزِلُ مِثْلَ مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ ط۔وہ لوگ اگرچہ اچھی طرح سمجھتے تھے کہ اس کلام کی نظیر پیش کرنا کسی انسان کے بس کی بات نہیں ‘ پھر بھی زبان سے الفاظ کہہ دینے کی حد تک کسی نے ایسا کہہ دیا ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن نے زبان دانی کا دعویٰ کرنے والے ماہرین ‘ شعراء اور اُدَباء سمیت اس معاشرے کے تمام لوگوں کو ایک بار نہیں ‘ بار بار یہ چیلنج کیا کہ تم سب سر جوڑ کر بیٹھ جاؤ اور اس جیسا کلام بنا کر دکھاؤ ‘ لیکن کسی میں بھی اس چیلنج کا جواب دینے کی ہمت نہ ہوسکی۔