WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير سورة الصف

(As-Saff) • المصدر: UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۖ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

📘 آیت 13{ یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ } ”اے اہل ِایمان ! ان لوگوں کے ساتھ دوستی مت کرو جن پر اللہ کا غضب نازل ہوا ہے“ نوٹ کیجیے ‘ جس مضمون سے سورت کا آغاز ہوا تھا اختتام پر وہی مضمون دوبارہ آگیا ہے۔ قَوْمًا غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ سے یہودی مراد ہیں اور یہاں اہل ایمان کو واضح طور پر منع کیا گیا ہے کہ ان کے ساتھ تمہاری دوستی نہیں ہونی چاہیے۔ { قَدْ یَئِسُوْا مِنَ الْاٰخِرَۃِ کَمَا یَئِسَ الْکُفَّارُ مِنْ اَصْحٰبِ الْقُبُوْرِ۔ } ”یہ لوگ آخرت سے مایوس ہوچکے ہیں جیسے کہ کفار مایوس ہوچکے ہیں اصحابِ قبور میں سے۔“ آیت کے اس حصے کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ یہ لوگ آخرت سے ایسے مایوس ہوچکے ہیں جیسے قبروں میں پڑے ہوئے کفار اپنی نجات سے مایوس ہیں۔ ظاہر ہے مرنے کے بعد کفار پر تمام حقائق منکشف ہوچکے ہیں اور ان حقائق کو دیکھتے ہوئے انہیں سزا سے بچنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ دوسرا مفہوم یوں ہے کہ یہ لوگ آخرت سے ایسے مایوس ہوچکے ہیں جیسے کفار اصحاب القبور کے دوبارہ اٹھنے سے مایوس ہیں۔ یہ دونوں مفاہیم اپنی اپنی جگہ درست ہیں ‘ اس لیے اس فقرے کے تراجم دونوں طرح سے کیے گئے ہیں۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَىٰ تِجَارَةٍ تُنْجِيكُمْ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ

📘 یہاں سے اس سورت کے تیسرے حصے کا آغاز ہو رہا ہے۔ آیت 9 میں حضور ﷺ کی بعثت کا ذکر ہوا ہے :آیت 9 { ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ } ”وہی ہے اللہ جس نے بھیجا اپنے رسول ﷺ کو الہدیٰ اور دین حق کے ساتھ تاکہ غالب کر دے اس کو پورے نظام زندگی پر“ حضور ﷺ کے مقصد بعثت کے حوالے سے یہ آیت خصوصی اہمیت کی حامل ہے اور اسی اہمیت کے باعث قرآن مجید میں اسے تین بار اس مقام کے علاوہ سورة التوبہ ‘ آیت 33 اور سورة الفتح ‘ آیت 28 کے طور پر دہرایا گیا ہے۔ تمام انبیاء و رسل - کے لیے قرآن مجید میں بشیر ‘ نذیر ‘ مذکر ‘ شاہد ‘ معلم وغیرہ الفاظ مشترک استعمال ہوئے ہیں ‘ لیکن اس آیت کا مضمون اور اسلوب صرف محمد رسول اللہ ﷺ کے لیے خاص ہے۔ الہدیٰ سے مراد یہاں وہ ہدایت نامہ قرآن ہے جو آپ ﷺ پر کامل ہوگیا ‘ جبکہ آپ سے پہلے تمام انبیاء کو اپنے اپنے دور میں جو میزان شریعت عطا ہوتی رہی تھی حضور ﷺ کی بعثت میں وہ کامل ہو کر ”دین الحق“ یعنی سچے اور عادلانہ نظام زندگی کی شکل اختیار کرگئی۔ چناچہ آپ ﷺ کو الہدیٰ اور دین حق کے ساتھ اس لیے بھیجا گیا تاکہ اللہ تعالیٰ کے نظام عدل و قسط کو دنیا کے تمام نظاموں پر غالب کردیا جائے۔ یہ تھا حضور ﷺ کی بعثت کا مشن جسے تکمیل کے لیے آپ ﷺ ہمارے سپرد فرما گئے تھے۔ لیکن ہم نے تو اس مشن کو کبھی اپنایا ہی نہیں۔ ہمارا مشن تو یہ ہے کہ حلال و حرام طریقے سے جیسے بھی ہو ‘ دولت اکٹھی کرو ‘ پھر اسی دولت سے صدقہ و قربانی دو ‘ حج کرو اور رمضان میں ہر سال عمرے کے لیے چلے جایا کرو۔ ہمارا سارا زور rituals پر ہے اور دین اگر دنیا میں پامال ہے تو ہوتا رہے ‘ ہماری بلا سے ! تصور کریں ‘ اگر آج صرف ایک سال میں حج پر اکٹھے ہونے والے افراد ہی سروں پر کفن باندھ کر غلبہ دین کی جدوجہد کے لیے میدان میں کود پڑیں تو دنیا کو بدل سکتے ہیں۔ مگر افسوس ‘ صد افسوس ! ؎رہ گئی رسم اذاں روح بلالی رض نہ رہی فلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہی ! { وَلَــوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ۔ } ”اور خواہ مشرکوں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو !“ ظاہر ہے مشرکین کب چاہیں گے کہ دنیا میں اسلام کا غلبہ ہو ‘ نظام توحید کا نفاذ ہو اور اللہ کی حکومت بالفعل قائم ہوجائے۔ یہاں پر مُشْرِکُوْنَ کا لفظ خاص طور پر لائق توجہ ہے۔ اس سے مراد صرف وہ مشرکین ہی نہیں ہیں جو بتوں اور دیوی دیوتائوں کو پوجتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ وہ اللہ کے حضور ان کی سفارش کردیں گے ‘ بلکہ سب سے بڑے مشرک تو وہ ہیں جو دنیا میں خدائی کے دعوے دار بنے بیٹھے ہیں ‘ جو نمرود اور فرعون کے نقش قدم پر چل رہے ہیں اور جن کا دعویٰ ہے کہ اقتدارِ اعلیٰ sovereignty کے مالک ہم ہیں۔ فرعون بھی تو یہی کہتا تھا : { اَلَـیْسَ لِیْ مُلْکُ مِصْرَ وَھٰذِہِ الْاَنْھٰرُ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْج } الزخرف : 51 کہ دیکھو ! کیا یہ مصر کی حکومت میری نہیں ہے ؟ اور کیا یہ پورا نہری نظام میرے تابع نہیں ہے ؟ تو فرعون کے اس دعوے اور ”عوام کی حاکمیت“ کے نعرے میں کیا فرق رہ گیا ؟ صرف یہی نا کہ وہاں اقتدار کا دعویٰ کرنے والا ایک فرد تھا اور یہاں پوری قوم حاکمیت کی دعوے دار ہے۔ اب ظاہر ہے اگر اس ماحول میں آپ اللہ کی حاکمیت کا نعرہ لگائیں گے اور اللہ کے نظام عدل و قسط کے قیام کے مشن کو لے کر آگے بڑھنا چاہیں گے تو ”اپنی حاکمیت“ کے یہ دعوے دار خم ٹھونک کر آپ کے مقابلے میں آ کھڑے ہوں گے۔ اس کے بعد بھی اگر آپ اپنے موقف پر قائم رہیں گے تو ان سے آپ کا تصادم ناگزیر ہوجائے گا اور آپ کو مال و جان کی قربانی کی صورت میں اپنے اس موقف کی قیمت چکانا پڑے گی۔ چناچہ اب اگلی آیات میں اسی صورت ِحال کا ذکر کیا جا رہا ہے :

تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ

📘 آیت 1 1{ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَتُجَاہِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِاَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ } ”وہ یہ کہ تم ایمان لائو اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر اور جہاد کرو اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ۔“ یعنی اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایسے ایمان لائو جیسا کہ ایمان لانے کا حق ہے۔ سورة النساء کی یہ آیت بھی اسی مفہوم میں اہل ایمان کو ایمان لانے کا حکم دے رہی ہے : { یٰٓــاَیـُّـہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ…} آیت 136 ”اے ایمان والو ! ایمان لائو اللہ پر اور اس کے رسول ﷺ پر…“ گویا یہ ایمان کے دعوے داروں کے لیے ایسا مومن بننے کی دعوت ہے جو سورة الحجرات کی اس آیت کے معیار پر پورے اترتے ہوں : { اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَجَاہَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِط } آیت 15 ”مومن تو بس وہی ہیں جو ایمان لائے اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ‘ پھر شک میں ہر گز نہیں پڑے اور انہوں نے جہاد کیا اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں۔“{ ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّــکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۔ } ”یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم سمجھ رکھتے ہو۔“

يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَيُدْخِلْكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ وَمَسَاكِنَ طَيِّبَةً فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ

📘 آیت 12{ یَغْفِرْلَــکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَیُدْخِلْکُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ } ”وہ تمہارے لیے تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں داخل کرے گا ان باغات میں جن کے دامن میں نہریں بہتی ہوں گی“ { وَمَسٰکِنَ طَیِّبَۃً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍط ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۔ } ”اور بہت پاکیزہ مساکن عطا کرے گا رہنے کے باغات میں۔ یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔“ اصل اور سب سے بڑی فوز و فلاح اور کامیابی تو آخرت کی کامیابی ہے۔ ایک بندئہ مومن کو چاہیے کہ دنیا کی کامیابیوں سے بےنیاز ہو کر اسی کامیابی کو اپنا ہدف بنائے۔ حتیٰ کہ غلبہ دین یا اقامت دین کے لیے جدوجہد کا نصب العین بھی آخرت کی کامیابی ہی ہونا چاہیے۔ اس لیے کہ اگر ہم اس جدوجہد میں دنیوی کامیابی پر نظر رکھیں گے تو اپنی کوششوں کو کامیاب نہ ہوتے دیکھ کر یا تو مایوس ہو کر بیٹھ جائیں گے یا الٹے سیدھے طریقے سے by hook or by crook مثبت نتائج حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ تاریخ گواہ ہے کہ دنیوی نتائج کو منزل سمجھ لینے کی وجہ سے اس راہ کی بڑی بڑی تحریکیں یا تو مایوسی کے قبرستان میں دفن ہوگئیں یا شارٹ کٹ لگانے کی کوشش میں غلط موڑ مڑ کر اصل راستہ ہی گم کر بیٹھیں۔ چناچہ اقامت دین کی جدوجہد کے دوران ہمیں صرف اللہ کی رضا اور آخرت کی کامیابی پر نظر رکھنی چاہیے اور دنیا کی کامیابی یا ناکامی کی پروا نہیں کرنی چاہیے۔ اس حوالے سے یہ نکتہ بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ ہم صرف کوشش کرنے کے مکلف ہیں ‘ اس کوشش کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے ہم مکلف نہیں۔ ہاں اپنی جدوجہد کے طریق کار پر حالات و ماحول کے مطابق نظر ثانی ضرور کرتے رہنا چاہیے ‘ لیکن بنیادی طور پر ہمارا طریقہ اور راستہ وہی رہنا چاہیے جو منہج نبوی ﷺ سے ماخوذ ہو۔ یہ منہج حضور ﷺ کے توسط سے ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْـکُمْ شِرْعَۃً وَّمِنْہَاجًاط } المائدۃ : 48 ”تم میں سے ہر ایک کے لیے ہم نے ایک شریعت اور ایک راہ عمل طے کردی ہے“۔ چناچہ ہم پر لازم ہے کہ ہم اقامت دین کی جدوجہد کی راہیں متعین کرتے ہوئے روشنی اور راہنمائی منہجِ محمدی علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام سے ہی حاصل کریں۔

وَأُخْرَىٰ تُحِبُّونَهَا ۖ نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ ۗ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ

📘 اب اگلی آیت میں اس ”بونس“ کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کبھی کبھی اس دنیا میں بھی عطا کردیتا ہے ‘ چناچہ فرمایا :آیت 13{ وَاُخْرٰی تُحِبُّوْنَہَا } ”اور ایک اور چیز جو تمہیں بہت پسند ہے۔“ یعنی اس جہاد میں تمہیں دنیا کی کامیابی بھی مل سکتی ہے۔ اگرچہ تمہاری یہ کامیابی اللہ تعالیٰ کے ہاں اس قدر اہم نہیں جس قدر تم اسے اہم سمجھتے ہو۔ وہ غلبہ دین کے لیے تمہاری کوششوں کا محتاج نہیں۔ وہ چاہے تو آنِ واحد میں دین کو غالب کر دے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک جو چیز اہم ہے وہ تمہاری جدوجہد اور اس جدوجہد میں تمہارا جذبہ ایثار و خلوص ہے ‘ اور یہی تمہارا اصل امتحان ہے۔ اگر تم اس امتحان میں کامیاب ہوجاتے ہو تو اللہ کے ہاں کامیاب ہو ‘ چاہے دنیوی لحاظ سے تم ناکام ہی رہو۔ لیکن اللہ کو معلوم ہے کہ بربنائے طبع بشری تم لوگ اپنی اس جدوجہد کے مثبت نتائج اس دنیا میں بھی دیکھنا چاہتے ہو اور دنیوی فتح حاصل ہونے پر تم لوگ بہت خوش ہوتے ہو ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ تمہاری خوشی کے لیے وہ بھی تمہیں عطا فرمائے گا۔ { نَصْرٌ مِّنَ اللّٰہِ وَفَتْحٌ قَرِیْبٌط } ”اللہ کی طرف سے مدد اور قریبی فتح۔“ بس اب اللہ تعالیٰ کی مدد آیا ہی چاہتی ہے اور دنیوی فتح بھی تمہارے قدم چومنے ہی والی ہے۔ یہ کس مدد اور کونسی فتح کی بشارت ہے ؟ یہ سمجھنے کے لیے غزوئہ احزاب کے حالات و واقعات کو ایک دفعہ پھر سے ذہن میں تازہ کر لیجیے۔ اس اعتبار سے یوں سمجھئے کہ سورة الصف کی حیثیت سورة الاحزاب کے ضمیمے کی سی ہے۔ { وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ۔ } ”اور اے نبی ﷺ آپ مومنین کو خوشخبری سنا دیجیے۔“ غزوئہ احزاب کے بعد حضور ﷺ نے صحابہ رض کو یہ خوشخبری ان الفاظ میں سنائی تھی : لَنْ تَغْزُوْکُمْ قُرَیْشٌ بَعْدَ عَامِھِمْ ھٰذَا وَلٰٰـکِنَّـکُمْ تَغْزُوْنَھُمْ تفسیر ابن کثیر : 6/396 کہ اب اس سال کے بعد قریش تم پر کبھی چڑھائی نہیں کرسکیں گے ‘ بلکہ آئندہ تم لوگ ان پر چڑھائی کرو گے۔ یہ ان کی طرف سے آخری حملہ تھا ‘ کفر کی کمر ٹوٹ چکی اور کفار حوصلہ ہار گئے ‘ اب اقدام تمہاری طرف سے ہوگا۔ چناچہ اس کے بعد اگلے سال 6 ہجری میں حضور ﷺ نے چودہ سو صحابہ کے ساتھ عمرے کی نیت سے مکہ کا سفر اختیار فرمایا ‘ جس کے نتیجے میں مسلمانوں اور قریش کے مابین حدیبیہ کے مقام پر صلح کا معاہدہ طے پایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس معاہدے کو فتح مبین قرار دیا : { اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا۔ } الفتح ”یقینا ہم نے آپ ﷺ کو ایک بڑی روشن فتح عطا فرمائی ہے۔“ دوسری طرف اس بشارت کا تعلق آخرت سے بھی ہے کہ اپنے مال و جان کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کے نتیجے میں مومنین صادقین کو جنت کی نعمتیں بھی ملیں گی اور اللہ کے ہاں انہیں ایک خاص مقام بھی عطا ہوگا۔ اور وہ ہوگا اللہ کے مددگار ہونے کا مقام ! یہاں یہ بات خصوصی طور پر لائق توجہ ہے کہ ان آیات میں عذاب الیم سے چھٹکارے کو ایمانِ حقیقی اور جہاد فی سبیل اللہ کے ساتھ مشروط کردیا گیا ہے۔ آیت 10 میں یہ بات جس دو ٹوک انداز میں واضح کی گئی ہے اسے فزیالوجی کی زبان میں ”All or none Law“ کہتے ہیں۔ یعنی ایسی صورت حال جس میں کوئی چیز واقع ہوتی ہے تو پوری ہوتی ہے اور اگر نہیں واقع ہوتی تو بالکل نہیں ہوتی۔ اس میں کوئی درمیانی راستہ یا تناسب ممکن نہیں ہوتا۔ ہمارے ارادی عضلات voluntary muscles کے سکڑنے کا معاملہ ایسا ہی ہے ‘ اگر محرک stimulus پورا مل جاتا ہے تو متعلقہ muscle کی پوری contraction ہوتی ہے اور اگر stimulus کم ہوتا ہے تو contraction بالکل نہیں ہوتی۔ اس مفہوم میں آیت 10 تا 13 کے مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ یہ راستہ اختیار کریں گے ان کے سب گناہ بھی معاف ہوجائیں گے بشرطیکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے ایمان و عمل کو درجہ قبولیت مل جائے ‘ انہیں عذاب الیم سے چھٹکارا بھی ملے گا اور جنت عدن میں ٹھکانہ بھی نصیب ہوگا۔ صرف یہی نہیں ‘ بلکہ دنیا میں انہیں اللہ کی مدد سے فتح بھی ملے گی اور سب سے بڑی بات یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مددگار قرار پائیں گے۔۔۔ اس کے برعکس اگر ہم لوگ ایمان کے دعوے تو بہت کریں اور اللہ و رسول ﷺ سے محبت کے نعرے بھی لگائیں ‘ لیکن مذکورہ دو شرائط ایمانِ حقیقی اور جہاد فی سبیل اللہ پوری کرنے میں سنجیدہ نہ ہوں تو ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہمارا رویہ اللہ تعالیٰ کی بیزاری کو دعوت دینے کے مترادف ہے : { کَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰہِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ۔ } الصف ”بڑی شدید بیزاری کی بات ہے اللہ کے نزدیک کہ تم وہ کہو جو کرتے نہیں“۔ چناچہ جو لوگ مذکورہ شرائط کا حق ادا کیے بغیر ہی سمجھتے ہیں کہ وہ آخرت میں نجات پاجائیں گے وہ ایک خود ساختہ خیال کے سہارے زندگی بسر کر رہے ہیں اور اپنی سوچ سے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ان آیات کے الفاظ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ یعنی یہ ‘ معاذ اللہ ‘ کلامِ مہمل ہے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا أَنْصَارَ اللَّهِ كَمَا قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوَارِيِّينَ مَنْ أَنْصَارِي إِلَى اللَّهِ ۖ قَالَ الْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنْصَارُ اللَّهِ ۖ فَآمَنَتْ طَائِفَةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَكَفَرَتْ طَائِفَةٌ ۖ فَأَيَّدْنَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَىٰ عَدُوِّهِمْ فَأَصْبَحُوا ظَاهِرِينَ

📘 اس سورة مبارکہ کی آخری آیت ایک طویل آیت ہے اور منطقی اعتبار سے یہ اس سلسلہ مضمون کا ایک انتہائی اہم اور بلند ترین مقام ہے جو گزشتہ آیات میں چلا آ رہا ہے۔ فرمایا :آیت 14{ یٰٓـــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْٓا اَنْصَارَ اللّٰہِ } ”اے اہل ایمان ! تم اللہ کے مددگار بن جائو“ اللہ کے مددگار بننے کا طریقہ یہ ہے کہ تم اللہ کے دین کا جھنڈا سربلند کرنے پر کمربستہ ہو جائو۔ اور اگر تم اس مشن کو آگے بڑھانے کے لیے جدوجہد کرو گے تو تم محمد عربی ﷺ کے مددگار بھی بن جائو گے ‘ کیونکہ غلبہ دین کا یہ مشن اصل میں تو اللہ کے رسول ﷺ کا مشن ہے۔ تو اے اہل ایمان ! آئو آگے بڑھو ! اللہ کے دین کا جھنڈا اٹھائو ! جان و مال کا سرمایہ لگائو اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے مددگاروں میں اپنانام لکھوا لو۔ { کَمَا قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ لِلْحَوَارِیّٖنَ } ”جیسے کہا تھا عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم نے اپنے حواریوں سے“ { مَنْ اَنْصَارِیْٓ اِلَی اللّٰہِط } ”کون ہے میرا مددگار اللہ کی طرف ؟“ یعنی کون ہے جو میری مدد کرے اللہ کی راہ میں ؟ مدد مجھے درکار ہے ‘ لیکن مشن اللہ کا ہے۔ اس فقرے میں وہی دو نسبتیں نظر آرہی ہیں جن کا ذکر سورة الفتح کی اس آیت میں حضور ﷺ کی بیعت کے حوالے سے آیا ہے : { اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰہَ ط یَدُ اللّٰہِ فَوْقَ اَیْدِیْھِمْج } آیت 10۔ یعنی بیعت حضور ﷺ کے ہاتھ پر ہو رہی ہے لیکن سودا اللہ تعالیٰ سے ہے۔ گویا عملی طور پر اس بیعت میں دو کے بجائے تین ہاتھ ہیں : بیعت کرنے والے کا ہاتھ ‘ حضور ﷺ کا ہاتھ اور اللہ کا ہاتھ۔ چناچہ اللہ کی مدد کرنے کا طریقہ یہی ہے کہ آپ اس ”بندے“ کی مدد کریں جو اللہ کے مشن کو لے کر اس کے راستے پر نکلا ہو۔ اسی فلسفے کے تحت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں نے اللہ کی مدد کے لیے آپ علیہ السلام کی آواز پر لبیک کہا تھا اور اسی جذبے کے ساتھ حضور ﷺ کے صحابہ رض نے اپنا سب کچھ آپ ﷺ کے قدموں میں نچھاور کر کے { وَالَّذِیْنَ مَعَہٗٓ} الفتح : 29 کی فہرست میں اپنے نام لکھوائے تھے۔ چناچہ آج بھی اس مشن کو آگے بڑھانے کا یہی طریقہ ہے کہ اللہ کی توفیق سے اللہ کا کوئی بندہ خود کو اس مشن کے لیے وقف کر کے { مَنْ اَنْصَارِیْٓ اِلَی اللّٰہِط } کی صدا بلند کرے کہ اے اللہ کے بندو ! میں نے تو یکسو ہو کر اللہ کی طرف رجوع کرلیا ہے۔ مجھے تو اب اس راستے پر چلنا ہی چلنا ہے۔ کوئی ساتھی ملے گا تب بھی چلوں گا اور اگر کوئی ساتھی نہیں ملے گا تب بھی چلوں گا۔ تو آئو آگے بڑھو اور میرے ہاتھ میں ہاتھ دے کر اللہ کے مددگار بن جائو ! { قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰہِ } ”حواریوں نے کہا کہ ہم ہیں اللہ کے مددگار !“ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے مددگار بن گئے۔ بنیادی طور پر اس آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں کے خلوص و ایثار کا ذکر ہے کہ انہوں نے { مَنْ اَنْصَارِیْٓ اِلَی اللّٰہِ } کی دعوت پر بلاتامل خود کو پیش کردیا۔ { فَاٰمَنَتْ طَّآئِفَۃٌ مِّنْم بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ وَکَفَرَتْ طَّآئِفَۃٌج } ”تو بنی اسرائیل کا ایک گروہ حضرت مسیح علیہ السلام پر ایمان لے آیا اور دوسرا گروہ کفر پر اڑا رہا۔“ { فَاَیَّدْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلٰی عَدُوِّہِمْ } ”تو ہم نے مدد کی ان کی جو ایمان لائے تھے ان کے دشمنوں کے خلاف“ { فَاَصْبَحُوْا ظٰہِرِیْنَ۔ } ”تو بالآخر وہی غالب ہوئے۔“ اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نام لیوا دنیا میں غالب ہوئے اور اللہ کے رسول علیہ السلام کا انکار کرنے والے یہودی مغلوب ہوئے۔۔۔۔ لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیروکاروں کو یہ کامیابی آسانی سے نہیں ملی تھی ‘ اس کے لیے ان لوگوں کو تین سو سال تک جاں گداز جدوجہد کرنی پڑی اور بڑی بڑی آزمائشوں سے گزرنا پڑا۔ اس کے مقابل حضور ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ رض کی ابتلاء و آزمائش کا دورانیہ چند سال کے عرصے میں سمٹ گیا تھا۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ جتنے طویل عرصے تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیروکاروں نے مخالفین کی طرف سے تکلیفیں اور سختیاں برداشت کی ہیں اس کی کوئی مثال کسی اور نبی علیہ السلام یا رسول علیہ السلام کے پیروکاروں میں نہیں ملتی۔ قرآن مجید میں ان کی آزمائشوں اور قربانیوں کا ذکر متعدد مقامات پر آیا ہے۔ مثلاً سورة یٰسین کے آغاز میں جن تین رسولوں کا ذکر آیا ہے ان کے بارے میں زیادہ تر مفسرین کی رائے یہی ہے کہ وہ حضرت مسیح علیہ السلام کے حواریوں میں سے تھے۔ یعنی وہ حضرت مسیح علیہ السلام کے فرستادہ رسول علیہ السلام کے رسول تھے۔ اسی طرح سورة البروج میں جن اہل ایمان کا واقعہ بیان ہوا ہے وہ بھی عیسائی تھے اور انہیں بادشاہِ وقت ’ ابونواس ‘ نے خندقوں میں ڈال کر زندہ جلا دیا تھا۔ پھر اصحاب الکہف جو رومی بادشاہ کے تشدد کے خوف سے غار میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے تھے وہ بھی عیسائی تھے۔ بہرحال حضرت مسیح علیہ السلام کے پیروکاروں کی تین صدیوں پر محیط لازوال قربانیوں کے بعد بالآخر 300 عیسوی میں رومی سلطنت نے عیسائیت قبول کرلی۔ آیت میں اسی غلبے کا ذکر ہے۔ اس کے بعد حضرت مسیح علیہ السلام کے پیروکار جب گمراہ ہونے پر آئے تو انہوں نے شرک بھی بدترین ایجاد کیا۔ یعنی انہوں نے اپنے پیغمبر کو بربنائے عقیدت اللہ کا صلبی بیٹا بنا ڈالا نعوذ باللہ۔ اس ضمن میں آج ہمیں بھی اپنا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ہاں بھی بعض نعت خواں حضرات حضور ﷺ سے عقیدت اور عشق و محبت کے نام پر اتنا غلو کرتے ہیں کہ آپ ﷺ کو اللہ کے برابر بٹھانے سے کم پر ان کی تسلی ہی نہیں ہوتی۔ حتیٰ کہ ایسے لوگوں نے ہندوئوں کی دیکھا دیکھی حضور ﷺ کے لیے ”اوتار“ کا عقیدہ بھی گھڑ لیا ہے۔ عبرت کے لیے ملاحظہ ہوں یہ اشعار : ؎وہی جو مستویٔ عرش تھا خدا ہو کر اُتر پڑا وہ مدینے میں مصطفیٰ ﷺ ہو کر !اور : ؎مدینے کی مسجد میں منبر کے اوپر بغیر عین کا اِک عرب ہم نے دیکھا ! اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { یٰٓـاَھْلَ الْکِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ } النساء : 171 کہ اے اہل کتاب ! اپنے دین میں غلو نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ کا یہ حکم صرف یہود و نصاریٰ کے لیے ہی نہیں تھا ‘ ہمارے لیے بھی ہے۔ لیکن افسوس کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کے احکام کو بھی درخورِ اعتناء نہیں سمجھا اور ہر اس گناہ اور جرم میں بےدھڑک اپنا حصہ ڈالنے کی کوشش کی جس کا ارتکاب کر کے پچھلی امتیں راندئہ درگاہ ہوئی تھیں۔ سوائے اس کے کہ قرآن کے متن میں ہم تحریف نہیں کرسکے اور وہ بھی اس لیے کہ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خصوصی تحفظ حاصل ہے۔ ورنہ اگر ممکن ہوتا تو اس میدان میں بھی ہم کسی سے پیچھے نہ رہتے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ

📘 آیت 2 { یٰٓــاَیـُّـھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ۔ } ”اے مسلمانو ! تم کیوں کہتے ہو وہ جو کرتے نہیں ہو ؟“ اس آیت میں زجر و توبیخ اور جھنجھوڑنے کا وہی انداز پایا جاتا ہے جو اس سے قبل ہم سورة الحدید میں بھی دیکھ چکے ہیں۔ بلکہ یہ اسلوب زیر مطالعہ مدنی سورتوں میں جگہ جگہ پایا جاتا ہے۔ قبل ازیں سورة الحدید کے تمہیدی کلمات میں اس اسلوب کی وجہ بھی بیان کی گئی ہے کہ ان سورتوں کے زمانہ نزول 5 ہجری کے بعد تک پرانے مسلمانوں کی نسبت نومسلموں کی تعداد زیادہ ہوچکی تھی۔ ایمان کی گہرائی اور جذبہ ایثار و قربانی کے حوالے سے نووارد مسلمانوں کی کیفیت چونکہ ”السابقون الاولون“ اور ابتدائی دور کے اہل ایمان کی سی نہیں تھی ‘ اس لیے مسلمانوں کے ایمان و عمل کے اجتماعی معیار کے اوسط میں قدرے کمی واقع ہوئی تھی اور اسی وجہ سے انہیں اس انداز میں جھنجھوڑاجا رہا ہے۔ لیکن قرآن مجید چونکہ ہر زمانے کے لوگوں سے مخاطب ہے ‘ اس لیے اس آیت کو پڑھتے ہوئے یوں سمجھیں کہ آج یہ ہم سے سوال کر رہی ہے کہ اے ایمان کے دعوے دارو ! تم کیسے مسلمان ہو ؟ تمہارے قول و فعل میں اتنا تضاد کیوں ہے ؟ تم اللہ پر ایمان کا اقرار بھی کرتے ہو اور دن رات اس کے احکام کو پائوں تلے روندتے بھی رہتے ہو ! تم رسول اللہ ﷺ کی ذات سے عشق و محبت کے دعوے بھی کرتے ہو لیکن جب عمل کے میدان میں آتے ہو تو آپ ﷺ کی سنتوں کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیتے ہو ! ذرا تصور کیجیے ! آج اگر اللہ کا کلام نازل ہو تو ہمارے ایمان ‘ ہمارے کردار اور ہمارے عمل پر کیا کیا تبصرہ کرے ! اور اگر آج حضور ﷺ خود تشریف لاکر اپنی امت کی حالت دیکھ لیں تو کیسا محسوس کریں !

كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ أَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ

📘 آیت 3{ کَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰہِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ۔ } ”بڑی شدید بیزاری کی بات ہے اللہ کے نزدیک کہ تم وہ کہو جو تم کرتے نہیں۔“ یہ بہت سخت الفاظ ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں سے اس سے بڑی ڈانٹ اور گرفت اور بھلا کیا ہوسکتی ہے ؟ لیکن اس ڈانٹ اور اظہارِ بیزاری کے بعد اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا اور محبت کا معیار بھی بتادیا ہے کہ اگر تم جاننا چاہتے ہو کہ اللہ کو کیسے لوگ پسند ہیں اور یہ کہ وہ کیسے لوگوں سے محبت کرتا ہے تو سنو !

إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ

📘 آیت 4 { اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِہٖ صَفًّا کَاَنَّہُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ۔ } ”اللہ کو تو محبوب ہیں وہ بندے جو اس کی راہ میں صفیں باندھ کر قتال کرتے ہیں ‘ جیسے کہ وہ سیسہ پلائی دیوار ہوں۔“ آج کے زمانے میں ”بنیانِ مرصوص“ reinforced concrete wall کو کہا جائے گا۔ ایسی دیواریں بڑے بڑے dams کے لیے بنائی جاتی ہیں۔ البتہ پرانے زمانے میں اگر کسی دیوار کو غیر معمولی طور پر مضبوط کرنا مقصود ہوتا توچنائی کرنے کے بعد اس کے اندر پگھلا ہوا تانبا ڈالا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اردو میں عام طور پر ”بنیانِ مرصوص“ کا ترجمہ ”سیسہ پلائی ہوئی دیوار“ کے الفاظ میں کیا جاتا ہے۔ پرانے زمانے میں اس طریقہ سے ”سیسہ پلائی ہوئی دیوار“ بنانے کا تصورسورۃ الکہف کی آیت 96 میں بھی ملتا ہے۔ ذوالقرنین بادشاہ نے یاجوج ماجوج کے حملوں سے حفاظت کے لیے لوہے کے تختوں کی مدد سے دیوار کھڑی کرنے کے بعد حکم دیا تھا : { اٰ تُوْنِیْٓ اُفْرِغْ عَلَیْہِ قِطْرًا۔ } ”اب لائو میں اس پر پگھلا ہوا تانبا ڈال دوں“۔ بہرحال یہاں ”بنیانِ مرصوص“ سے مراد میدانِ جنگ میں مجاہدین کی ایسی صفیں ہیں جن میں کوئی رخنہ یا خلا نہ ہو اور ایک ایک مجاہد اپنی جگہ پر اس قدر مضبوطی سے کھڑا ہو کہ دشمن کے لیے صف کے کسی ایک حصے کو بھی دھکیلنا ممکن نہ ہو۔ یہاں ضمنی طور پر یہ مسئلہ بھی سمجھ لیں کہ نماز کے لیے ہماری صف بندی کی بھی یہی کیفیت ہونی چاہیے۔ ایک صف کے تمام نمازیوں کو کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہونا چاہیے اور ان کے پیروں کے محاذات بھی ایک ہونے چاہئیں ‘ یعنی تمام لوگوں کے پائوں ایک سیدھ میں ہوں تاکہ صف سیدھی رہے۔ دو آدمیوں کے درمیان خلا بالکل نہیں ہونا چاہیے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ جماعت کی صف میں دو نمازیوں کے درمیان خلا کی جگہ سے شیطان گزر جاتا ہے۔ جماعت کے لیے صف بندی کا اہتمام کرانا دراصل امام کی ذمہ داری ہے ‘ لیکن مقام افسوس ہے کہ ہمارے اکثر ائمہ مساجد اس طرف کوئی توجہ ہی نہیں دیتے۔ البتہ اس ضمن میں ضرورت سے زیادہ شدت بھی مناسب نہیں ‘ جیسے بعض لوگ غیر معمولی طور پر ٹانگیں پھیلا کر دوسرے نمازی کے پائوں پر اپنا پائوں چڑھا دیتے ہیں اور دوسروں کے لیے کو فت کا باعث بنتے ہیں۔ بہرحال ہمارے لیے اس آیت کا اصل پیغام یہ ہے کہ اسلام میں سب سے بڑی نیکی اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل ”قتال فی سبیل اللہ“ ہے۔ فلسفے کی اصطلاح میں سب سے اعلیٰ خیر یا نیکی کو summum bonum کہتے ہیں۔ ہر فلسفہ اخلاق میں ایک ”خیر اعلیٰ“ summum bonum یا بلند ترین نیکی highest virtue کا تصور ہوتا ہے۔ چناچہ اس آیت کے اصل پیغام کو اگر فلسفہ کی زبان میں بیان کریں تو یوں کہیں گے کہ اسلام کے نظام فکر اور اس کے نظریہ اخلاق میں بلند ترین نیکی یا ”خیر اعلیٰ“ summum bonum قتال فی سبیل اللہ ہے۔ چناچہ جو کوئی اللہ کا قرب حاصل کرنا چاہتا ہو اسے اپنی سب سے قیمتی متاع یعنی اپنی جان اس کی راہ میں قربانی کے لیے پیش کرنا ہوگی۔ جو شخص اس قربانی کے لیے تیار نہ ہو اسے چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی محبت و قربت کا دعویٰ بھی نہ کرے۔ بقول غالب ؔ ع ”جس کو ہو جان و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں !“ یہاں سورت کے پہلے حصے کا مطالعہ مکمل ہوگیا۔ اب آئندہ چار آیات میں بنی اسرائیل کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر پیغمبروں کے ساتھ ان کا طرزعمل کیا تھا۔ یہود کی تاریخ کے حوالے سے دراصل مسلمانوں کو متنبہ کیا جا رہا ہے کہ قول و عمل کا تضاد اور ایمان کے عملی تقاضوں کی ادائیگی سے پہلوتہی ہی وہ اصل جرم تھا جس کی پاداش میں یہود اس مقام اور منصب سے معزول کردیے گئے جس پر اب تم فائز کیے گئے ہو۔

وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ يَا قَوْمِ لِمَ تُؤْذُونَنِي وَقَدْ تَعْلَمُونَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ ۖ فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ ۚ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ

📘 آیت 5 { وَاِذْ قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہٖ یٰــقَوْمِ لِمَ تُؤْذُوْنَنِیْ } ”اور یاد کرو جب کہ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا : اے میری قوم کے لوگو ! تم کیوں مجھے ایذا دے رہے ہو ؟“ یہ جس ایذا کا ذکر ہے وہ ذاتی نوعیت کی بھی ہوسکتی ہے۔ ظاہر ہے انبیاء و رسل بھی آخر انسان تھے اور طبع بشری کے تحت ہر طرح کی تکلیف کو محسوس بھی کرتے تھے۔ جیسے سورة الاحزاب کی آیت 69 میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے ایک تکلیف دہ معاملے کا ذکر آیا ہے یا جیسے خود حضور ﷺ کو مشرکین مکہ کی طرف سے بھی ذاتی نوعیت کی تکالیف پہنچائی جاتی رہیں اور منافقین کے طرزعمل سے بھی شدید ذہنی و قلبی اذیت سے دوچار ہونا پڑا۔ لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے بنی اسرائیل کی طرف سے اصل اور سب سے بڑی ایذا وہ تھی جو حکم جہاد سے ان کے انکار کی وجہ سے آپ علیہ السلام کو پہنچی تھی۔ اپنی قوم کے اس انکار کے بعد آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے جو دعا کی تھی اس کے ایک ایک لفظ میں شدت ِتکلیف کے احساسات کی جھلک نظر آتی ہے۔ ملاحظہ ہوں آپ علیہ السلام کی دعا کے یہ الفاظ :{ قَالَ رَبِّ اِنِّیْ لَآ اَمْلِکُ اِلاَّ نَفْسِیْ وَاَخِیْ فَافْرُقْ بَیْنَنَا وَبَیْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ۔ } المائدۃ”موسٰی علیہ السلام نے عرض کیا : پروردگار ‘ مجھے تو اختیار نہیں ہے سوائے اپنی جان کے اور اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کی جان کے ‘ تو اب تفریق کردے ہمارے اور ان نافرمان لوگوں کے درمیان۔“ { وَقَدْ تَّعْلَمُوْنَ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَـیْکُمْ } ”جبکہ تم جانتے ہو کہ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں۔“ میرے نزدیک یہاں لفظ ”رسول“ نبی کے معنی میں آیا ہے۔ دراصل حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بعثت اپنی قوم یعنی بنی اسرائیل کی طرف ”نبی“ کی حیثیت سے تھی ‘ بطور ”رسول“ نہیں تھی۔ جبکہ قوم فرعون کی طرف آپ علیہ السلام بحیثیت ”رسول“ مبعوث ہوئے تھے : { وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰی بِاٰیٰتِنَآ اِلٰی فِرْعَوْنَ وَمَلاَئِہٖ فَقَالَ اِنِّیْ رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔ } الزخرف”اور ہم نے بھیجا تھا موسیٰ علیہ السلام کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف تو اس نے کہا کہ دیکھو میں تمام جہانوں کے پروردگار کا بھیجا ہوا رسول ہوں۔“ کسی قوم کی طرف ”رسول“ کی بعثت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا قانون ہمیشہ یہ رہا ہے کہ متعلقہ قوم پر اپنے رسول کی فرمانبرداری لازم ہوتی تھی۔ چناچہ جو قوم اپنے رسول علیہ السلام کی دعوت کو رد کردیتی تھی اسے ہلاک کردیا جاتا تھا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اس قانون کا اطلاق بنی اسرائیل پر نہیں ہوا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پے در پے نافرمانی کے باوجود انہیں ہلاک نہیں کیا گیا۔ دوسری طرف قوم فرعون آپ علیہ السلام کی نافرمانی کی وجہ سے ہلاک کردی گئی۔ چناچہ اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کے لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی حیثیت نبی کی تھی ‘ جبکہ آلِ فرعون کی طرف آپ علیہ السلام ”رسول“ مبعوث ہو کر آئے تھے۔ { فَلَمَّا زَاغُوْٓا اَزَاغَ اللّٰہُ قُلُوْبَہُمْ ط } ”پھر جب وہ ٹیڑھے ہوگئے تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کردیا۔“ یہ آیت اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اس میں لوگوں کی ہدایت کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کا ایک بنیادی اصول اور قانون بیان ہوا ہے۔ اس اصول کی روشنی میں قرآن مجید کی ان آیات کو سمجھنا بھی آسان ہوجاتا ہے جن میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کو گمراہ کرنے یا ان کے دلوں پر مہر کردینے کا ذکر آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس قانون کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ہدایت کے راستے کو پہچان لینے کے بعد بھی اسے اختیار نہ کرے بلکہ گمراہی کی روش پر ہی چلتے رہنے کو ترجیح دے ‘ پھر وہ اس راستے پر چلتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ مہلت کی حدود پھلانگ کر ایسے مقام پر پہنچ جائے جہاں سے اس کی واپسی کا کوئی امکان نہ ہو point of no return تو ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ اس شخص کے دل پر مہر لگا دیتا ہے اور اس پر ہدایت کے دروازے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند کردیتا ہے ‘ یعنی بندہ جب سمجھتے بوجھتے ہوئے ٹیڑھا راستہ اختیار کرتا ہے تو اس کی سزا کے طور پر اللہ تعالیٰ اس کا دل ہمیشہ کے لیے ٹیڑھا کردیتا ہے۔ اعاذنا اللّٰہ من ذٰلک ! { وَاللّٰہُ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۔ } ”اور اللہ فاسقوں کو زبردستی ہدایت نہیں دیتا۔“

وَإِذْ قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ ۖ فَلَمَّا جَاءَهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ قَالُوا هَٰذَا سِحْرٌ مُبِينٌ

📘 آیت 6 { وَاِذْ قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ یٰــبَنِیْٓ اِسْرَآئِ ‘ یْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَـیْکُمْ } ”اور یاد کرو جب عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم نے کہا کہ اے بنی اسرائیل ! میں اللہ کا رسول ہوں تمہاری طرف“ اس آیت میں بنی اسرائیل کے دوسرے دور کا ذکر ہے جب ان کی طرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام رسول بن کر آئے۔ بحیثیت رسول آپ علیہ السلام کی بعثت کا ذکر سورة آل عمران کی آیت 49 کے الفاظ { وَرَسُوْلًا اِلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ } میں آیا ہے۔ { مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰٹۃِ } ”میں تصدیق کرتے ہوئے آیا ہوں اس کی جو میرے سامنے موجود ہے تورات میں سے“ { وَمُبَشِّرًام بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْم بَعْدِی اسْمُہٗٓ اَحْمَدُ } ”اور بشارت دیتا ہوا ایک رسول کی جو میرے بعد آئیں گے ‘ ان کا نام احمد ﷺ ہوگا۔“ { فَلَمَّا جَآئَ ہُمْ بِالْبَـیِّنٰتِ قَالُوْا ہٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ۔ } ”پھر جب وہ عیسیٰ علیہ السلام آئے ان کے پاس واضح نشانیوں کے ساتھ تو انہوں نے کہہ دیا کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔“ اس کے بعد حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے ساتھ بنی اسرائیل کا تیسرا دور شروع ہوا۔ حضور ﷺ کی رسالت کے بعد بنی اسرائیل کو واضح طور پر بتادیا گیا : { عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یَّرْحَمَکُمْج وَاِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا 7} بنی اسرائیل : 8 ”ہوسکتا ہے کہ اب تمہارا رب تم پر رحم کرے ‘ اور اگر تم نے وہی روش اختیار کی تو ہم بھی وہی کچھ کریں گے“۔ یعنی اے بنی اسرائیل ! تم ہمارے لاڈلے تھے ‘ ہم نے تمہیں خود برگزیدہ کیا تھا : { وَلَقَدِ اخْتَرْنٰـھُمْ عَلَی عِلْمٍ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ۔ } الدخان مگر تم نے اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے اپنے آپ کو راندئہ درگاہ بنالیا۔ بہرحال ہماری رحمت اور محبت کے دروازے اب بھی تمہارے لیے کھلے ہیں۔ اگر تم لوگ توبہ کر کے اپنی روش درست کرلو تو ہم اب بھی تمہیں اپنی آغوش رحمت میں لینے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن اس کے لیے تمہیں خود کو محمد رسول اللہ ﷺ کے قدموں میں ڈالنا ہوگا اور قرآن کو اپنا راہبر ماننا ہوگا : { اِنَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنَ یَہْدِیْ لِلَّتِیْ ہِیَ اَقْوَمُ وَیُـبَشِّرُ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَہُمْ اَجْرًا کَبِیْرًا۔ } بنی اسرائیل ”یقینا یہ قرآن راہنمائی کرتا ہے اس راہ کی طرف جو سب سے سیدھی ہے اور بشارت دیتا ہے ان اہل ایمان کو جو نیک عمل بھی کریں کہ ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔“ تم پر واضح ہونا چاہیے کہ اب ہمارے قصر ِرحمت کا شاہدرہ قرآن ہے۔ اگر تم ہماری رحمت کی پناہ میں آنا چاہتے ہو تو تمہیں اسی شاہدرہ کی راہ سے گزر کر آنا ہوگا۔ لیکن اگر تم نے اپنے طرزعمل کی اصلاح نہ کی ‘ اپنی نافرمانیاں اسی طرح جاری رکھیں تو پھر ہم بھی تمہارے ساتھ ویسا ہی سلوک کریں گے جیسا کہ ماضی میں تمہارے ساتھ ہوتا رہا ہے : { وَاِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا }۔ جیسے ماضی میں ہمارے حکم پر تم لوگ بخت نصر Nebukadnezar ‘ یونانیوں ‘ شامیوں ‘ رومیوں ‘ وغیرہ کے ہاتھوں بار بار نشان عبرت بنتے رہے ہو ویسے ہی ایک مرتبہ پھر ہم تمہیں تمہاری بداعمالیوں کی سزا دلوائیں گے۔ بیسویں صدی میں نازیوں کے ہاتھوں یہود کا جو انجام ہوا وہ بھی عبرت انگیز ہے۔ ان کا اپنا دعویٰ ہے کہ ”ہولوکاسٹ“ میں 60 لاکھ افراد مارے گئے۔

وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَهُوَ يُدْعَىٰ إِلَى الْإِسْلَامِ ۚ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ

📘 آیت 7{ وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ } ”اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ تراشے“ { وَہُوَ یُدْعٰٓی اِلَی الْاِسْلَامِ } ”درآں حالیکہ اسے بلایا جا رہاہو اسلام کی طرف !“ یعنی اب اللہ کے آخری رسول ﷺ تم لوگوں کو دعوت ایمان و اسلام دے رہے ہیں اور تم لوگ اس دعوت پر لبیک کہنے کے بجائے ان ﷺ کی نبوت و رسالت اور قرآن کے بارے میں اللہ پر جھوٹ باندھ رہے ہو۔ { وَاللّٰہُ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۔ } ”اور اللہ ایسے ظالموں کو زبردستی ہدایت نہیں دیتا۔“ اب اگلی آیت میں یہودیوں کی ان کوششوں اور سازشوں کا ذکر ہے جو انہوں نے حضور ﷺ اور قرآن کے خلاف شروع کر رکھی تھیں۔ یہ آیت زیر مطالعہ مضمون کے کلائمکس کا درجہ رکھتی ہے :

يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ

📘 یہ آیت الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ سورة التوبہ میں اس طرح آئی ہے :{ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰہِ بِاَفْوَاہِہِمْ وَیَاْبَی اللّٰہُ اِلَّآ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَہٗ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ۔ } ”یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو بجھا دیں اپنے منہ کی پھونکوں سے اور اللہ کو ہر گز منظور نہیں ہے مگر یہ کہ وہ اپنے نور کا اتمام فرما کر رہے ‘ چاہے یہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار گزرے۔“ اللہ کے نور کو منہ کی پھونکوں سے بجھانے کے استعارے میں یہود مدینہ کی ان بودی کوششوں کی طرف اشارہ ہے جو وہ حضور ﷺ اور مسلمانوں کے خلاف اس وقت کر رہے تھے۔ یعنی وہ سامنے آکر براہ راست مقابلہ کرنے کے بجائے مسلمانوں کے خلاف بےبنیاد پروپیگنڈا کرتے ‘ افواہیں اڑاتے ‘ درپردہ سازشوں کے جال بنتے رہتے ‘ کبھی قریش کے پاس جاتے کہ تم مدینہ پر حملہ کرو اور کبھی کسی دوسرے قبیلے کو سبز باغ دکھا کر مسلمانوں کے خلاف ابھارتے۔ سورة الحشر میں ان کی بزدلی اور اندرونی کمزوری کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا گیا ہے : { لاَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ جَمِیْعًا اِلَّا فِیْ قُرًی مُّحَصَّنَۃٍ اَوْ مِنْ وَّرَآئِ جُدُرٍط } آیت 14 کہ یہ لوگ کھلے میدان میں اکٹھے ہو کر تمہارا مقابلہ کرنے کی جرات نہیں کرسکتے ‘ ہاں چھپ چھپا کر دیواروں کی اوٹ سے وہ تم پر ضرور وار کریں گے۔ مولانا ظفر علی خاں نے اس آیت کے مضمون کی ترجمانی اپنے ایک شعر میں یوں کی ہے : ؎نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا ! یہاں یہ اصولی نکتہ بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ اس آیت اور اس مضمون کی حامل قرآن کی اور بہت سی دوسری آیات کے مفہوم کا دائرہ صرف حضور ﷺ کے زمانے کے یہودیوں اور ان کی اسلام دشمن سرگرمیوں تک ہی محدود نہیں ‘ بلکہ ان میں تاقیامِ قیامت ہر زمانے کے یہودیوں اور ان کی ان سازشوں کا ذکر ہے جو وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مسلسل کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ موجودہ دور میں اگرچہ یہ لوگ پوری عیسائی دنیا کو اپنی مٹھی میں لے کر عالم اسلام کے خلاف صف آراء ہوچکے ہیں ‘ مگر قرائن بتاتے ہیں کہ ان کے فیصلے کا وقت اب قریب آ لگا ہے۔ آیت زیر مطالعہ کے الفاظ کے مطابق اللہ کے نور کا اتمام یعنی روئے ارضی پر دین اسلام کا غلبہ تو ایک طے شدہ امر ہے۔ اس کے لیے قیامت سے پہلے دنیا کو ایک انتہائی خوفناک جنگ کا سامنا کرنا ہے۔ اس جنگ میں یہودی اور عیسائی مل کر مسلمانوں کے خلاف لڑیں گے۔ احادیث میں اس جنگ کو الَمْلَحْمَۃُ الْعُظْمٰیکا نام دیا گیا ہے ‘ جبکہ عیسائیوں اور یہودیوں کی اصطلاح میں اسے ”ہرمجدون“ Armageddon کہا جاتا ہے۔ اس جنگ کے نتیجے میں یہودی مکمل طور پر نیست و نابود ہوجائیں گے اور اسلام واحد طاقت کے طور پر پوری دنیا پر غالب آجائے گا۔ یہ ہے آیت کے الفاظ وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ کے مفہوم کا خلاصہ جس کی تفصیل ہمیں احادیث میں ملتی ہے۔

هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ

📘 یہاں سے اس سورت کے تیسرے حصے کا آغاز ہو رہا ہے۔ آیت 9 میں حضور ﷺ کی بعثت کا ذکر ہوا ہے :آیت 9 { ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ } ”وہی ہے اللہ جس نے بھیجا اپنے رسول ﷺ کو الہدیٰ اور دین حق کے ساتھ تاکہ غالب کر دے اس کو پورے نظام زندگی پر“ حضور ﷺ کے مقصد بعثت کے حوالے سے یہ آیت خصوصی اہمیت کی حامل ہے اور اسی اہمیت کے باعث قرآن مجید میں اسے تین بار اس مقام کے علاوہ سورة التوبہ ‘ آیت 33 اور سورة الفتح ‘ آیت 28 کے طور پر دہرایا گیا ہے۔ تمام انبیاء و رسل - کے لیے قرآن مجید میں بشیر ‘ نذیر ‘ مذکر ‘ شاہد ‘ معلم وغیرہ الفاظ مشترک استعمال ہوئے ہیں ‘ لیکن اس آیت کا مضمون اور اسلوب صرف محمد رسول اللہ ﷺ کے لیے خاص ہے۔ الہدیٰ سے مراد یہاں وہ ہدایت نامہ قرآن ہے جو آپ ﷺ پر کامل ہوگیا ‘ جبکہ آپ سے پہلے تمام انبیاء کو اپنے اپنے دور میں جو میزان شریعت عطا ہوتی رہی تھی حضور ﷺ کی بعثت میں وہ کامل ہو کر ”دین الحق“ یعنی سچے اور عادلانہ نظام زندگی کی شکل اختیار کرگئی۔ چناچہ آپ ﷺ کو الہدیٰ اور دین حق کے ساتھ اس لیے بھیجا گیا تاکہ اللہ تعالیٰ کے نظام عدل و قسط کو دنیا کے تمام نظاموں پر غالب کردیا جائے۔ یہ تھا حضور ﷺ کی بعثت کا مشن جسے تکمیل کے لیے آپ ﷺ ہمارے سپرد فرما گئے تھے۔ لیکن ہم نے تو اس مشن کو کبھی اپنایا ہی نہیں۔ ہمارا مشن تو یہ ہے کہ حلال و حرام طریقے سے جیسے بھی ہو ‘ دولت اکٹھی کرو ‘ پھر اسی دولت سے صدقہ و قربانی دو ‘ حج کرو اور رمضان میں ہر سال عمرے کے لیے چلے جایا کرو۔ ہمارا سارا زور rituals پر ہے اور دین اگر دنیا میں پامال ہے تو ہوتا رہے ‘ ہماری بلا سے ! تصور کریں ‘ اگر آج صرف ایک سال میں حج پر اکٹھے ہونے والے افراد ہی سروں پر کفن باندھ کر غلبہ دین کی جدوجہد کے لیے میدان میں کود پڑیں تو دنیا کو بدل سکتے ہیں۔ مگر افسوس ‘ صد افسوس ! ؎رہ گئی رسم اذاں روح بلالی رض نہ رہی فلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہی ! { وَلَــوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ۔ } ”اور خواہ مشرکوں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو !“ ظاہر ہے مشرکین کب چاہیں گے کہ دنیا میں اسلام کا غلبہ ہو ‘ نظام توحید کا نفاذ ہو اور اللہ کی حکومت بالفعل قائم ہوجائے۔ یہاں پر مُشْرِکُوْنَ کا لفظ خاص طور پر لائق توجہ ہے۔ اس سے مراد صرف وہ مشرکین ہی نہیں ہیں جو بتوں اور دیوی دیوتائوں کو پوجتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ وہ اللہ کے حضور ان کی سفارش کردیں گے ‘ بلکہ سب سے بڑے مشرک تو وہ ہیں جو دنیا میں خدائی کے دعوے دار بنے بیٹھے ہیں ‘ جو نمرود اور فرعون کے نقش قدم پر چل رہے ہیں اور جن کا دعویٰ ہے کہ اقتدارِ اعلیٰ sovereignty کے مالک ہم ہیں۔ فرعون بھی تو یہی کہتا تھا : { اَلَـیْسَ لِیْ مُلْکُ مِصْرَ وَھٰذِہِ الْاَنْھٰرُ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْج } الزخرف : 51 کہ دیکھو ! کیا یہ مصر کی حکومت میری نہیں ہے ؟ اور کیا یہ پورا نہری نظام میرے تابع نہیں ہے ؟ تو فرعون کے اس دعوے اور ”عوام کی حاکمیت“ کے نعرے میں کیا فرق رہ گیا ؟ صرف یہی نا کہ وہاں اقتدار کا دعویٰ کرنے والا ایک فرد تھا اور یہاں پوری قوم حاکمیت کی دعوے دار ہے۔ اب ظاہر ہے اگر اس ماحول میں آپ اللہ کی حاکمیت کا نعرہ لگائیں گے اور اللہ کے نظام عدل و قسط کے قیام کے مشن کو لے کر آگے بڑھنا چاہیں گے تو ”اپنی حاکمیت“ کے یہ دعوے دار خم ٹھونک کر آپ کے مقابلے میں آ کھڑے ہوں گے۔ اس کے بعد بھی اگر آپ اپنے موقف پر قائم رہیں گے تو ان سے آپ کا تصادم ناگزیر ہوجائے گا اور آپ کو مال و جان کی قربانی کی صورت میں اپنے اس موقف کی قیمت چکانا پڑے گی۔ چناچہ اب اگلی آیات میں اسی صورت ِحال کا ذکر کیا جا رہا ہے :