Al-A'raaf • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN
﴿ وَإِذْ قِيلَ لَهُمُ ٱسْكُنُوا۟ هَٰذِهِ ٱلْقَرْيَةَ وَكُلُوا۟ مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُمْ وَقُولُوا۟ حِطَّةٌۭ وَٱدْخُلُوا۟ ٱلْبَابَ سُجَّدًۭا نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطِيٓـَٰٔتِكُمْ ۚ سَنَزِيدُ ٱلْمُحْسِنِينَ ﴾
“And [remember] when you were told: "Dwell in this land and eat of its food as you may desire; but say, `Remove Thou from us the burden of our sins,' and enter the gate humbly - [whereupon] We shall forgive you your sins [and] shall amply reward the doers of good."”
آیت 161 وَاِذْ قِیْلَ لَہُمُ اسْکُنُوْا ہٰذِہِ الْقَرْیَۃَ وَکُلُوْا مِنْہَا حَیْثُ شِءْتُمْ اس شہر کا نام اریحا تھا ‘ جو آج بھی جریکو Jericho کے نام سے موجود ہے۔ یہ فلسطین کا پہلا شہر تھا جو بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلیفہ حضرت یوشع بن نون کی سرکردگی میں باقاعدہ جنگ کر کے فتح کیا تھا۔ وَقُوْلُوْا حِطَّۃٌ وَّادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا اور استغفار کرتے رہو ‘ اور شہر کے دروازے میں سر جھکا کر داخل ہونا انہیں حکم دیا گیا تھا کہ جب شہر میں داخل ہوں تو ’ حِطَّۃٌ‘ کا ورد کرتے ہوئے داخل ہوں۔ اس لفظ کے معنی استغفار کرنے کے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ سے اپنی لغزشوں اور کوتاہیوں کی معافی مانگتے ہوئے شہر میں داخل ہونے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس ضمن میں دوسرا حکم یہ تھا کہ جب تم فاتح کی حیثیت سے شہر کے دروازے سے داخل ہو تو اس وقت اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی اختیار کرتے ہوئے سجدۂ شکر ادا کرنا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس وقت تکبر سے تمہاری گردنیں اکڑی ہوئی ہوں۔ نَّغْفِرْ لَکُمْ خَطِیْٓءٰتِکُمْط سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ اس طرح سے ہم نہ صرف یہ کہ تمہاری خطائیں لغزشیں اور فروگزاشتیں معاف کردیں گے ‘ بلکہ تم میں سے مخلص اور نیک لوگوں کو مزید نوازیں گے ‘ ان کے درجات بلند کریں گے اور ان کو اونچے اونچے مراتب عطا کریں گے۔