https://nabtah.net/ https://devrumaroof.techarea.co.id/ https://siami.uki.ac.id/ https://www.ir-webdesign.com/ https://matedu.matabacus.ac.ug/ https://www.banglatutorials.com/products https://www.kingdom-theology.id/ https://apdesign.cz/aktuality https://www.ir-webdesign.com/kontakt
| uswah-academy
WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 28 من سورة سُورَةُ الجِنِّ

Al-Jinn • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

﴿ لِّيَعْلَمَ أَن قَدْ أَبْلَغُوا۟ رِسَٰلَٰتِ رَبِّهِمْ وَأَحَاطَ بِمَا لَدَيْهِمْ وَأَحْصَىٰ كُلَّ شَىْءٍ عَدَدًۢا ﴾

“so as to make manifest that it is indeed [but] their Sustainer's messages that these [apostles] deliver: for it is He who encompasses [with His knowledge] all that they have [to say], just as He takes count, one by one, of everything [that exists].”

📝 التفسير:

آیت 28{ لِّیَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّہِمْ } ”تاکہ وہ دیکھ لے کہ انہوں نے واقعتا اپنے رب کے پیغامات پہنچادیے ہیں“ یعنی اللہ تعالیٰ یہ بات واضح کر دے۔ اسی حوالے سے اتمامِ حجت کے لیے حضور ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر حاضرین سے پوچھا تھا : اَلَا ھَلْ بَلَّغْتُ ؟ ”کیا میں نے اللہ کا پیغام تم لوگوں تک پہنچادیا ؟“ اس پر تمام حاضرین نے یک زبان ہو کر کہا تھا : نَشْھَدُ اَنَّکَ قَدْ بَلَّغْتَ وَاَدَّیْتَ وَنَصَحْتَ 1 { وَاَحَاطَ بِمَا لَدَیْہِمْ وَاَحْصٰی کُلَّ شَیْئٍ عَدَدًا۔ } ”اور وہ احاطہ کیے ہوئے ہے اس سب کچھ کا جو ان کے پاس ہے اور اس نے ہرچیز کا حساب کتاب رکھا ہوا ہے گنتی کے ساتھ۔“