https://nabtah.net/ https://devrumaroof.techarea.co.id/ https://siami.uki.ac.id/ https://www.ir-webdesign.com/ https://matedu.matabacus.ac.ug/ https://www.banglatutorials.com/products https://www.kingdom-theology.id/ https://apdesign.cz/aktuality https://www.ir-webdesign.com/kontakt
| uswah-academy
WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 27 من سورة سُورَةُ الإِنسَانِ

Al-Insaan • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

﴿ إِنَّ هَٰٓؤُلَآءِ يُحِبُّونَ ٱلْعَاجِلَةَ وَيَذَرُونَ وَرَآءَهُمْ يَوْمًۭا ثَقِيلًۭا ﴾

“Behold, they [who are unmindful of God] love this fleeting life, and leave behind them [all thought of] a grief-laden Day.”

📝 التفسير:

آیت 27{ اِنَّ ہٰٓؤُلَآئِ یُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَۃَ وَیَذَرُوْنَ وَرَآئَ ہُمْ یَوْمًا ثَقِیْلًا۔ } ”یقینا یہ لوگ فوری ملنے والی چیز دنیا سے محبت کرتے ہیں اور ایک بھاری دن جو ان کے پیچھے آنے والا ہے ‘ اس کا دھیان چھوڑے بیٹھے ہیں۔“ یعنی قیامت کا سخت دن : { یَوْمًا یَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبَا۔ } المزمل ”وہ دن جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا“۔ اس آیت کے مضمون کا ربط سورة القیامہ کی ان آیات کے ساتھ ہے : { کَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَۃَ - وَتَذَرُوْنَ الْاٰخِرَۃَ۔ } ”ہرگز نہیں ! اصل میں تم لوگ عاجلہ جلد ملنے والی چیز سے محبت کرتے ہو۔ اور تم آخرت کو چھوڑ دیتے ہو۔“