WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 40 من سورة سُورَةُ النَّبَإِ

An-Naba • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

﴿ إِنَّآ أَنذَرْنَٰكُمْ عَذَابًۭا قَرِيبًۭا يَوْمَ يَنظُرُ ٱلْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ يَدَاهُ وَيَقُولُ ٱلْكَافِرُ يَٰلَيْتَنِى كُنتُ تُرَٰبًۢا ﴾

“Verily, We have warned you of suffering near at hand - [suffering] on the Day when man shall [clearly] see what his hands have sent ahead, and when he who has denied the truth shall say, "Oh, would that I were mere dust...!"”

📝 التفسير:

آیت 40{ اِنَّآ اَنْذَرْنٰـکُمْ عَذَابًا قَرِیْبًاج } ”دیکھو ! ہم نے تو تمہیں خبردار کردیا ہے اس عذاب سے جو بالکل قریب ہے۔“ تصور کیجیے ‘ یہ عذاب انسان کے کتنا قریب ہے ! ادھر انسان کی آنکھ بند ہوتی ہے ‘ ادھر اسے قبر میں اتارنے کا بندوبست کردیا جاتا ہے۔ اور قبر کیا ہے ؟ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ اِنَّمَا الْقَبْرُ رَوْضَۃٌ مِنْ رِیَاضِ الْجَنَّۃِ اَوْ حُفْرَۃٌ مِنْ حُفَرِ النَّارِ 1 ”قبر یا تو جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا“۔ گویا ہر زندہ انسان اس باغیچے یا گڑھے سے صرف چند گھنٹوں کے فاصلے پر بیٹھا ہے۔ { یَّوْمَ یَنْظُرُ الْمَرْئُ مَا قَدَّمَتْ یَدٰٹہُ } ”جس دن انسان دیکھ لے گا جو اس کے دونوں ہاتھوں نے آگے بھیجا تھا“ { وَیَـقُوْلُ الْکٰفِرُ یٰلَیْتَنِیْ کُنْتُ تُرٰبًا۔ } ”اور کافر کہے گا : کاش کہ میں مٹی ہوتا !“ کاش مجھے شرفِ انسانیت ملا ہی نہ ہوتا ! ”مرا اے کاش کہ مادر نہ زادے !“ کاش میری ماں نے مجھے جنا ہی نہ ہوتا ! 2