WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 34 من سورة سُورَةُ الأَنفَالِ

Al-Anfaal • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

﴿ وَمَا لَهُمْ أَلَّا يُعَذِّبَهُمُ ٱللَّهُ وَهُمْ يَصُدُّونَ عَنِ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ وَمَا كَانُوٓا۟ أَوْلِيَآءَهُۥٓ ۚ إِنْ أَوْلِيَآؤُهُۥٓ إِلَّا ٱلْمُتَّقُونَ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ﴾

“But what have they [now] in their favour that God should not chastise them-seeing that they bar [the believers] from the Inviolable House of Worship, although they are not its [rightful] guardians? None but the God-conscious can be its guardians: but of this most of these [evildoers] are unaware;”

📝 التفسير:

آیت 33 وَمَا کَان اللّٰہُ لِیُعَذِّبَہُمْ وَاَنْتَ فِیْہِمْ ط اگرچہ وہ لوگ عذاب کے پوری طرح مستحق ہوچکے تھے ‘ لیکن جس طرح کے عذاب کے لیے وہ لوگ دعائیں کر رہے تھے ویسا عذاب سنت الٰہی کے مطابق ان پر اس وقت تک نہیں آسکتا تھا جب تک اللہ کے رسول ﷺ مکہ میں ان کے درمیان موجود تھے ‘ کیونکہ ایسے عذاب کے نزول سے پہلے اللہ تعالیٰ اپنے رسول علیہ السلام اور اہل ایمان کو ہجرت کا حکم دے دیتا ہے اور ان کے نکل جانے کے بعد ہی کسی آبادی پر اجتماعی عذاب آیا کرتا ہے۔ وَمَا کَان اللّٰہُ مُعَذِّبَہُمْ وَہُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ ۔اس لحاظ سے مکہ کی آبادی کا معاملہ بہت گڈ مڈ تھا۔ مکہ میں عوام الناس بھی تھے ‘ سادہ لوح لوگ بھی تھے جو اپنے طور پر اللہ کا ذکر کرتے تھے ‘ تلبیہ پڑھتے تھے اور اللہ سے استغفار بھی کرتے تھے۔ دوسری طرف اللہ کا قانون ہے جس کا ذکر اسی سورت کی آیت 37 میں ہوا ہے کہ جب تک وہ پاک اور ناپاک کو چھانٹ کر الگ نہیں کردیتا لِیَمِیْزَ اللّٰہُ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ اس وقت تک اس نوعیت کا عذاب کسی قوم پر نہیں آتا۔