WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 46 من سورة سُورَةُ الأَنفَالِ

Al-Anfaal • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

﴿ وَأَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَنَٰزَعُوا۟ فَتَفْشَلُوا۟ وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ ۖ وَٱصْبِرُوٓا۟ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلصَّٰبِرِينَ ﴾

“And pay heed unto God and His Apostle, and do not [allow yourselves to] be at variance with one another, lest you lose heart and your moral strength desert you. And be patient in adversity: for, verily, God is with those who are patient in adversity.”

📝 التفسير:

آیت 46 وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ یہ تیسرا حکم ڈسپلن کے بارے میں ہے کہ جو حکم تمہیں رسول ﷺ کی طرف سے ملے اس کی دل و جان سے پابندی کرو۔ اگرچہ یہاں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کی بات ہوئی ہے لیکن حقیقت میں دیکھا جائے تو عملی طور پر یہ اطاعت رسول اللہ ﷺ ہی کی تھی ‘ کیونکہ جو حکم بھی آتا تھا وہ آپ ﷺ ہی کی طرف سے آتا تھا۔ قرآن بھی حضور ﷺ کی زبان مبارک سے ادا ہوتا تھا اور اگر آپ ﷺ اپنی کسی تدبیر سے اجتہاد کے تحت کوئی فیصلہ فرماتے یا کوئی رائے ظاہر فرماتے تو وہ بھی آپ ﷺ ہی کی زبان مبارک سے ادا ہوتا تھا۔ لہٰذا عملاً اللہ کی اطاعت آپ ﷺ ہی کی اطاعت میں مضمر ہے۔ اقبالؔ نے اس نکتے کو بہت خوبصورتی سے اس ایک مصرعے میں سمو دیا ہے : ع بمصطفٰی ﷺ بر ساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست !وَلاَ تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَتَذْہَبَ رِیْحُکُمْ وَاصْبِرُوْاط اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ ۔یہ وہی الفاظ ہیں جو ہم سورة آل عمران کی آیت 152 میں پڑھ چکے ہیں۔ وہاں غزوۂ احد کے واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وَلَقَدْ صَدَقَکُمُ اللّٰہُ وَعْدَہٗٓ اِذْ تَحُسُّوْنَہُمْ بِاِذْنِہٖج حَتّٰیٓ اِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَعَصَیْتُمْ مِّنْم بَعْدِ مَآ اَرٰٹکُمْ مَّا تُحِبُّوْنَ ط اللہ تعالیٰ کو تو علم تھا کہ ایک سال بعد غزوۂ احد میں کیا صورت حال پیش آنے والی ہے۔ چناچہ ایک سال پہلے ہی مسلمانوں کو جنگی حکمت عملی کے بارے میں بہت واضح ہدایات دی جا رہی ہیں ‘ کہ ڈسپلن کی پابندی کرو اور اطاعت رسول ﷺ پر کاربند رہو۔