WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 48 من سورة سُورَةُ الأَنفَالِ

Al-Anfaal • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

﴿ وَإِذْ زَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيْطَٰنُ أَعْمَٰلَهُمْ وَقَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ ٱلْيَوْمَ مِنَ ٱلنَّاسِ وَإِنِّى جَارٌۭ لَّكُمْ ۖ فَلَمَّا تَرَآءَتِ ٱلْفِئَتَانِ نَكَصَ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ وَقَالَ إِنِّى بَرِىٓءٌۭ مِّنكُمْ إِنِّىٓ أَرَىٰ مَا لَا تَرَوْنَ إِنِّىٓ أَخَافُ ٱللَّهَ ۚ وَٱللَّهُ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ ﴾

“And, lo, Satan made all their doings seem goodly to them, and said, "No one can overcome you this day, for, behold, I shall be your protector!" but as soon as the two hosts came within sight of one another, he turned on his heels and said, "Behold, I am not responsible for you: behold, I see something that you do not see: behold, I fear God-for God is severe in retribution!"”

📝 التفسير:

آیت 48 وَاِذْ زَیَّنَ لَہُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَہُمْ وَقَالَ لاَ غَالِبَ لَکُمُ الْیَوْمَ مِنَ النَّاسِ یعنی ان کے دلوں میں شیطان نے متکبرانہ خیالات پیدا کردیے تھے اور انہیں خوش فہمی میں مبتلا کردیا تھا کہ تمہارا یہ سازوسامان ‘ یہ اسلحہ ‘ یہ اتنا بڑا لشکر ‘ یہ سب کچھ غیر معمولی اور انہونی صورت حال ہے۔ عرب کی تاریخ میں اس طرح کے مواقع بہت کم ملتے ہیں۔ کس میں ہمت ہے کہ آج اس لشکر کے سامنے ٹھہر سکے اور کس کے پاس اتنی طاقت ہے کہ آج تمہارے اوپر غلبہ پا سکے ؟وَاِنِّیْ جَارٌ لَّکُمْ ج فَلَمَّا تَرَآءَ تِ الْفِءَتٰنِ نَکَصَ عَلٰی عَقِبَیْہِ وَقَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْکُمْ اِنِّیْٓ اَرٰی مَا لاَ تَرَوْنَ چونکہ ابلیس عزازیل کی تخلیق آگ سے ہوئی ہے ‘ لہٰذا ناری مخلوق ہونے کی وجہ سے اس نے فرشتوں کو نازل ہوتے دیکھ لیا اور یہ کہتے ہوئے الٹے پاؤں بھاگ کھڑا ہوا کہ میں تو یہاں وہ کچھ دیکھ رہا ہوں جو تم لوگوں کو نظر نہیں آ رہا ہے۔