https://nabtah.net/ https://devrumaroof.techarea.co.id/ https://siami.uki.ac.id/ https://www.ir-webdesign.com/ https://matedu.matabacus.ac.ug/ https://www.banglatutorials.com/products https://www.kingdom-theology.id/ https://apdesign.cz/aktuality https://www.ir-webdesign.com/kontakt
| uswah-academy
WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 5 من سورة سُورَةُ الأَنفَالِ

Al-Anfaal • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

﴿ كَمَآ أَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنۢ بَيْتِكَ بِٱلْحَقِّ وَإِنَّ فَرِيقًۭا مِّنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ لَكَٰرِهُونَ ﴾

“EVEN AS thy Sustainer brought thee forth from thy home [to fight] in the cause of the truth, although some of the believers were averse to it,”

📝 التفسير:

آیت 5 کَمَآ اَخْرَجَکَ رَبُّکَ مِنْم بَیْتِکَ بالْحَقِّص وَاِنَّ فَرِیْقًًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَکٰرِہُوْنَ ۔یہ اس پہلی مشاورت کا ذکر ہے جو رسول اللہ ﷺ نے صحابہ رض سے مدینہ ہی میں فرمائی تھی۔ لشکر کے میدان بدر کی طرف روانگی کو ناپسند کرنے والے دو قسم کے لوگ تھے۔ ایک تو منافقین تھے جو کسی قسم کی آزمائش میں پڑنے کو تیار نہیں تھے۔ وہ اپنے منصوبے کے تحت اس طرح کی کسی مہم جوئی کی روایت کو Nip the evil in the budکے مصداق ابتدا ہی میں ختم کرنا چاہتے تھے۔ اس کے لیے ان کے دلائل بظاہر بڑے بھلے تھے کہ لڑائی جھگڑا اچھی بات نہیں ہے ‘ ہمیں تو اچھی باتوں اور اچھے اخلاق سے دین کی تبلیغ کرنی چاہیے ‘ اور لڑنے بھڑنے سے بچنا چاہیے ‘ وغیرہ وغیرہ۔ دوسری طرف کچھ نیک سرشت سچے مؤمن بھی ایسے تھے جو اپنے خاص مزاج اور سادہ لوحی کے سبب یہ رائے رکھتے تھے کہ ابھی تک قریش کی طرف سے تو کسی قسم کا کوئی اقدام نہیں ہوا ‘ لہٰذا ہمیں آگے بڑھ کر پہل نہیں کرنی چاہیے۔ زیر نظر آیت میں دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا گیا ہے کہ حضور ﷺ کا بدر کی طرف روانہ ہونا اللہ تعالیٰ کی تدبیر کا ایک حصہ تھا۔