https://nabtah.net/ https://devrumaroof.techarea.co.id/ https://siami.uki.ac.id/ https://www.ir-webdesign.com/ https://matedu.matabacus.ac.ug/ https://www.banglatutorials.com/products https://www.kingdom-theology.id/ https://apdesign.cz/aktuality https://www.ir-webdesign.com/kontakt
| uswah-academy
WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 50 من سورة سُورَةُ الأَنفَالِ

Al-Anfaal • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

﴿ وَلَوْ تَرَىٰٓ إِذْ يَتَوَفَّى ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ۙ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَٰرَهُمْ وَذُوقُوا۟ عَذَابَ ٱلْحَرِيقِ ﴾

“AND IF thou couldst but see [how it will be] when He causes those who are bent on denying the truth to die: the angels will strike their faces: and their backs, and [will say]: "Taste suffering through fire”

📝 التفسير:

آیت 49 اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ ابھی تک ایک طرف کے حالات کا نقشہ پیش کیا جا رہا تھا۔ یعنی لشکر قریش کی مکہ سے روانگی ‘ اس لشکر کی کیفیت ‘ ان کے سرداروں کے متکبرانہ خیالات ‘ شیطان کا ان کی پیٹھ ٹھونکنا اور پھر عین وقت پر بھاگ کھڑے ہونا۔ اب اس آیت میں مدینہ کے حالات پر تبصرہ ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ سے لشکر لے کر نکلے تو پیچھے رہ جانے والے منافقین کیا کیا باتیں بنا رہے تھے۔ وہ کہہ رہے تھے :غَرَّ ہٰٓؤُلَآءِ دِیْنُہُمْ ط یعنی ان لوگوں کا دماغ خراب ہوگیا ہے جو قریش کے اتنے بڑے لشکر سے مقابلہ کرنے چل پڑے ہیں۔ ہم تو پہلے ہی ان کو سفھَاء احمق سمجھتے تھے ‘ مگر اب تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ لوگ اپنے دین کے پیچھے بالکل ہی پاگل ہوگئے ہیں۔