Al-Anfaal • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN
﴿ ذَٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيكُمْ وَأَنَّ ٱللَّهَ لَيْسَ بِظَلَّٰمٍۢ لِّلْعَبِيدِ ﴾
“in return for what your own hands have wrought - for, never does God do the least wrong to His creatures!"”
آیت 49 اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ ابھی تک ایک طرف کے حالات کا نقشہ پیش کیا جا رہا تھا۔ یعنی لشکر قریش کی مکہ سے روانگی ‘ اس لشکر کی کیفیت ‘ ان کے سرداروں کے متکبرانہ خیالات ‘ شیطان کا ان کی پیٹھ ٹھونکنا اور پھر عین وقت پر بھاگ کھڑے ہونا۔ اب اس آیت میں مدینہ کے حالات پر تبصرہ ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ سے لشکر لے کر نکلے تو پیچھے رہ جانے والے منافقین کیا کیا باتیں بنا رہے تھے۔ وہ کہہ رہے تھے :غَرَّ ہٰٓؤُلَآءِ دِیْنُہُمْ ط یعنی ان لوگوں کا دماغ خراب ہوگیا ہے جو قریش کے اتنے بڑے لشکر سے مقابلہ کرنے چل پڑے ہیں۔ ہم تو پہلے ہی ان کو سفھَاء احمق سمجھتے تھے ‘ مگر اب تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ لوگ اپنے دین کے پیچھے بالکل ہی پاگل ہوگئے ہیں۔