Al-Anfaal • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN
﴿ مَا كَانَ لِنَبِىٍّ أَن يَكُونَ لَهُۥٓ أَسْرَىٰ حَتَّىٰ يُثْخِنَ فِى ٱلْأَرْضِ ۚ تُرِيدُونَ عَرَضَ ٱلدُّنْيَا وَٱللَّهُ يُرِيدُ ٱلْءَاخِرَةَ ۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌۭ ﴾
“IT DOES NOT behove a prophet to keep captives unless he has battled strenuously on earth. You may desire the fleeting gains of this world-but God desires [for you the good of] the life to come: and God is almighty, wise.”
آیت 67 مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّکُوْنَ لَہٗٓ اَسْرٰی حَتّٰی یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ ط۔یہ آیت غزوۂ بدر میں پکڑے جانے والے قیدیوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ غزوۂ بدر میں قریش کے ستر لوگ قیدی بنے۔ ان کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے صحابہ رض سے مشاورت کی۔ حضرت ابوبکر رض کی رائے تھی کہ ان لوگوں کے ساتھ نرمی کی جائے اور فدیہ وغیرہ لے کر انہیں چھوڑ دیا جائے۔ خود حضور ﷺ چونکہ رؤف و رحیم اور رقیق القلب تھے اس لیے آپ ﷺ کی بھی یہی رائے تھی۔ مگر حضرت عمر رض اس اعتبار سے بہت سخت گیر تھے اَشَدُّ ھُمْ فِی اَمْرِ اللّٰہِ عُمَرِ ۔ آپ رض کی رائے یہ تھی کہ یہ لوگ آزاد ہو کر پھر کفر کے لیے تقویت کا باعث بنیں گے ‘ اس لیے جب تک کفر کی کمر پوری طرح ٹوٹ نہیں جاتی ان کے ساتھ نرمی نہ کی جائے۔ آپ رض کا اصرار تھا کہ تمام قیدیوں کو قتل کردیا جائے ‘ بلکہ مہاجرین اپنے قریب ترین عزیزوں کو خود اپنے ہاتھوں سے قتل کریں۔ بعد میں ان قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑنے کا فیصلہ ہوا اور اس پر عمل درآمد بھی ہوگیا۔ اس فیصلے پر اس آیت کے ذریعے گرفت ہوئی کہ جب تک باطل کی کمر پوری طرح سے توڑ نہ دی جائے اس وقت تک حملہ آور کفار کو جنگی قیدی بنانا درست نہیں۔ انہیں قیدی بنانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ زندہ رہیں گے ‘ اور آج نہیں تو کل انہیں چھوڑنا ہی پڑے گا۔ لہٰذا وہ پھر سے باطل کی طاقت کا سبب بنیں گے اور پھر سے تمہارے خلاف لڑیں گے۔ تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَاق یہ فدیے کی طرف اشارہ ہے۔ اب نہ تو رسول اللہ ﷺ کی یہ نیت ہوسکتی تھی معاذ اللہ اور نہ ہی حضرت ابوبکر رض کی ‘ لیکن اللہ تعالیٰ کا معاملہ ایسا ہے کہ اس کے ہاں جب اپنے مقرب بندوں کی گرفت ہوتی ہے تو الفاظ بظاہر بہت سخت استعمال کیے جاتے ہیں۔ چناچہ ان الفاظ میں بھی ایک طرح کی سختی موجود ہے ‘ لیکن ظاہر ہے کہ یہ بات نہ حضور ﷺ کے لیے ہے اور نہ حضرت ابوبکر رض کے لیے۔