Al-Anfaal • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN
﴿ إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَهَاجَرُوا۟ وَجَٰهَدُوا۟ بِأَمْوَٰلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱلَّذِينَ ءَاوَوا۟ وَّنَصَرُوٓا۟ أُو۟لَٰٓئِكَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَآءُ بَعْضٍۢ ۚ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَلَمْ يُهَاجِرُوا۟ مَا لَكُم مِّن وَلَٰيَتِهِم مِّن شَىْءٍ حَتَّىٰ يُهَاجِرُوا۟ ۚ وَإِنِ ٱسْتَنصَرُوكُمْ فِى ٱلدِّينِ فَعَلَيْكُمُ ٱلنَّصْرُ إِلَّا عَلَىٰ قَوْمٍۭ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُم مِّيثَٰقٌۭ ۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌۭ ﴾
“BEHOLD, as for those who have attained to faith, and who have forsaken the domain of evil and are striving hard, with their possessions and their lives, in God's cause, as well as those who shelter and succour [them] - these are [truly] the friends and protectors of one another. But as for those who have come to believe without having migrated [to your country] - you are in no wise responsible for their protection until such a time as they migrate [to you]. Yet, if they ask you for succour against religious persecution, it is your duty to give [them] this succour-except against a people between whom and yourselves there is a covenant: for God sees all that you do.”
آیت 72 اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَہَاجَرُوْا وَجٰہَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوْٓا اُولٰٓءِکَ بَعْضُہُم اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ ط اس وقت تک مسلمان معاشرہ دو علیحدہ علیحدہ گروہوں میں منقسم تھا ‘ ایک گروہ مہاجرین کا تھا اور دوسرا انصار کا۔ اگرچہ مہاجرین اور انصار کو بھائی بھائی بنایا جا چکا تھا ‘ لیکن اس طرح کے تعلق سے پورا قبائلی نظام ایک دم تو تبدیل نہیں ہوجاتا۔ اس وقت تک صورت حال یہ تھی کہ غزوۂ بدر سے پہلے جو آٹھ مہمات حضور ﷺ نے مختلف علاقوں میں بھیجیں ان میں آپ ﷺ نے کسی انصاری صحابی رض کو شریک نہیں فرمایا۔ انصار پہلی دفعہ غزوۂ بدر میں شریک ہوئے۔ اس تاریخی حقیقت کو مد نظر رکھاجائے تو یہ نکتہ واضح ہوجاتا ہے کہ آیت کے پہلے حصے میں مہاجرین کا ذکر ہجرت کے علاوہ جہاد کی تحضیص کے ساتھ کیوں ہوا ہے ؟ یعنی انصار مدینہ تو جہاد میں بعد میں شامل ہوئے ‘ ہجرت کے ڈیڑھ سال بعد تک تو جہادی مہمات میں حصہ صرف مہاجرین ہی لیتے رہے تھے۔ یہاں انصار کی شان یہ بتائی گئی : وَالَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوْا کہ انہوں نے اپنے دلوں اور اپنے گھروں میں مہاجرین کے لیے جگہ پیدا کی اور ہر طرح سے ان کی مدد کی۔ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ یُہَاجِرُوْا مَا لَکُمْ مِّنْ وَّلاَیَتِہِمْ مِّنْ شَیْءٍ حَتّٰی یُہَاجِرُوْا ج سورۃ النساء میں جو اس سورت کے بعد نازل ہوئی ہے ہجرت نہ کرنے والوں کے بارے میں واضح حکم آیات 89 ‘ 90 موجود ہے۔ وہاں انہیں منافقین اور کفار جیسے سلوک کا مستحق قرار دیا گیا ہے کہ انہیں پکڑو اور قتل کرو اِلَّا یہ کہ ان کا تعلق کسی ایسے قبیلے سے ہو جس کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہو۔ آیت زیرنظر میں بھی واضح طور پر بتادیا گیا ہے کہ جن لوگوں نے ہجرت نہیں کی ان کے ساتھ تمہارا کوئی رشتۂ ولایت ورفاقت نہیں ہے۔ یعنی ایمان حقیقی تو دل کا معاملہ ہے جس کی کیفیت صرف اللہ جانتا ہے ‘ لیکن قانونی تقاضوں کے لیے ایمان کا ظاہری معیار ہجرت قرار پایا۔ جن لوگوں نے ایمان لانے کے بعد مکہ سے مدینہ ہجرت کی ‘ انہوں نے اپنے ایمان کا ظاہری ثبوت فراہم کردیا ‘ اور جن لوگوں نے ہجرت نہیں کی مگر ایمان کے دعویدار رہے ‘ انہیں قانونی طور پر مسلمان تسلیم نہیں کیا گیا۔ مثلاً بدر کے قیدیوں میں سے کوئی شخص اگر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں تو ایمان لا چکا تھا ‘ جنگ میں تو مجبوراً شامل ہوا تھا ‘ تو اس کا جواب اس اصول کے مطابق یہی ہے کہ چونکہ تم نے ہجرت نہیں کی ‘ لہٰذا تمہارا شمار ان ہی لوگوں کے ساتھ ہوگا جن کے ساتھ مل کر تم جنگ کرنے آئے تھے۔ اس لحاظ سے اس آیت کا روئے سخن بھی اسیران بدر کی طرف ہے۔ان میں سے اگر کوئی شخص اسلام کا دعویدار ہے تو وہ قانون کے مطابق فدیہ دے کر آزاد ہو ‘ واپس مکہ جائے ‘ پھر وہاں سے باقاعدہ ہجرت کر کے مدینہ آجائے تو اسے صاحب ایمان تسلیم کیا جائے گا۔ پھر وہ تمہارا حمایتی ہے اور تم اس کے حمایتی ہو گے۔وَاِنِ اسْتَنْصَرُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْکُمُ النَّصْرُ یعنی وہ لوگ جو ایمان لائے لیکن مکہ میں ہی رہے یا اپنے اپنے قبیلے میں رہے اور ان لوگوں نے ہجرت نہیں کی ‘ اگر وہ دین کے معاملے میں تم لوگوں سے مدد مانگیں تو تم ان کی مدد کرو۔اِلاَّ عَلٰی قَوْمٍم بَیْنَکُمْ وَبَیْنَہُمْ مِّیْثَاقٌ ط۔اگرچہ دارالاسلام والوں پر ان مسلمانوں کی حمایت و مدافعت کی ذمہ داری نہیں ہے جنہوں نے دارالکفر سے ہجرت نہیں کی ہے ‘ تاہم وہ دینی اخوت کے رشتہ سے خارج نہیں ہیں۔ چناچہ اگر وہ اپنے مسلمان بھائیوں سے اس دینی تعلق کی بنا پر مدد کے طالب ہوں تو ان کی مدد کرنا ضروری ہے ‘ بشرطیکہ یہ مدد کسی ایسے قبیلے کے مقابلے میں نہ مانگی جا رہی ہو جس سے مسلمانوں کا معاہدہ ہوچکا ہے۔ معاہدہ کا احترام بہرحال مقدم ہے۔