WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 33 من سورة سُورَةُ عَبَسَ

Abasa • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

﴿ فَإِذَا جَآءَتِ ٱلصَّآخَّةُ ﴾

“AND SO, when the piercing call [of resurrection] is heard”

📝 التفسير:

آیت 33{ فَاِذَا جَآئَ تِ الصَّآخَّۃُ۔ } ”تو جب وہ آجائے گی کان پھوڑنے والی آواز۔“ یعنی جب قیامت برپا کرنے کے لیے صور میں پھونکا جائے گا تو اس کی آواز سے کان پھٹ جائیں گے۔ اس آیت کی مشابہت سورة النازعات کی اس آیت سے ہے : { فَاِذَا جَآئَ تِ الطَّآمَّۃُ الْکُبْرٰی۔ } ”پھر جب وہ آجائے گا بڑا ہنگامہ۔“