At-Tawba • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN
﴿ إِلَّا ٱلَّذِينَ عَٰهَدتُّم مِّنَ ٱلْمُشْرِكِينَ ثُمَّ لَمْ يَنقُصُوكُمْ شَيْـًۭٔا وَلَمْ يُظَٰهِرُوا۟ عَلَيْكُمْ أَحَدًۭا فَأَتِمُّوٓا۟ إِلَيْهِمْ عَهْدَهُمْ إِلَىٰ مُدَّتِهِمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلْمُتَّقِينَ ﴾
“But excepted shall be -from among those who ascribe divinity to aught beside God - [people] with whom you [O believers] have made a covenant and who thereafter have in no wise failed to fulfil their obligations towards you, and neither have aided anyone against you: observe, then, your covenant with them until the end of the term agreed with them. Verily, God loves those who are conscious of Him.”
آیت 4 اِلاَّ الَّذِیْنَ عٰہَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ ثُمَّ لَمْ یَنْقُصُوْکُمْ شَیْءًا وَّلَمْ یُظَاہِرُوْا عَلَیْکُمْ اَحَدًا ‘یہاں میعادی معاہدوں کے سلسلے میں استثناء کا اعلان کیا جا رہا ہے۔ یعنی مشرکین کے ساتھ مسلمانوں کے ایسے معاہدے جو کسی خاص مدت تک ہوئے تھے ‘ ان کے بارے میں ارشاد ہو رہا ہے کہ اگر یہ مشرکین تمہارے ساتھ کیے گئے کسی معاہدے کو بخوبی نبھا رہے ہیں اور تمام شرائط کی پابندی کر رہے ہیں : فَاَتِمُّوْٓا اِلَیْہِمْ عَہْدَہُمْ اِلٰی مُدَّتِہِمْ ط تو مکمل کرو ان کے ساتھ ان کا معاہدہ مقررہ مدت تک یعنی مشرکین کے ساتھ ایک خاص مدت تک تمہارا کوئی معاہدہ ہوا تھا اور ان کی طرف سے ابھی تک اس میں کسی قسم کی خلاف ورزی بھی نہیں ہوئی ‘ تو اس معاہدے کی جو بھی مدت ہے وہ پوری کرو۔ اس کے بعد اس معاہدے کی تجدید نہیں ہوگی۔