WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 12 من سورة سُورَةُ يُونُسَ

Yunus • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ وَإِذَا مَسَّ ٱلْإِنسَٰنَ ٱلضُّرُّ دَعَانَا لِجَنۢبِهِۦٓ أَوْ قَاعِدًا أَوْ قَآئِمًۭا فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهُۥ مَرَّ كَأَن لَّمْ يَدْعُنَآ إِلَىٰ ضُرٍّۢ مَّسَّهُۥ ۚ كَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِلْمُسْرِفِينَ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ﴾

“For [thus it is:] when affliction befalls man, he cries out unto Us, whether he be lying on his side or sitting or standing; but as soon as We have freed him of his affliction, he goes on as though he had never invoked Us to save him from the affliction that befell him! Thus do their own doings seem goodly unto those who waste their own selves.”

📝 التفسير:

خدا کا قانون یہ ہے کہ کوئی شخص قابل انعام عمل کرے تو اس کا عمل فوراً اس کے اعمال نامہ میں شامل کردیا جاتا ہے۔ لیکن اگرکوئی شخص قابل سزا فعل کا ارتکاب کرتاہے تو خدا اس کو ڈھیل دیتا ہے تاکہ وہ کسی نہ کسی موڑ پر متنبہ ہو کر اپنی اصلاح کرلے۔ خدا کا یہ قانون انسان کے لیے بہت بڑی رحمت ہے، ورنہ انسان اتنا ظالم ہے کہ وہ ہر وقت برائی کرنے پر آمادہ رہتاہے، اور اگر لوگوں کو ان کی برائیوں پر فوراً پکڑا جانے لگے تو ان کی مہلتِ عمر بہت جلد ختم ہوجائے اور زمین کی پشت چلنے والے انسانوں سے خالی ہوجائے۔ دنیا کی زندگی میں سرکش وہ لوگ بنتے ہیں جو دنیا میں یہ سمجھ کر رہیں کہ مرنے کے بعد انھیں خدا کا سامنا نہیں کرنا ہوگا۔ جو پکڑ کے اندیشہ سے خالی ہو کر زندگی گزارتے ہیں،جو سمجھتے ہیں کہ وہ آزاد ہیں کہ جو دھاندلی چاہیں کریں اور جو فساد چاہیں پھیلائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگوں کے درمیان سچائی اور انصاف کے ساتھ معاملہ کرنے کا ایک ہی حقیقی محرک ہے، اور وہ یہ کہ آدمی یہ سمجھے کہ سب طاقت وروں کے اوپر ایک طاقت ور ہے۔ ہر آدمی اس کے آگے بے بس ہے۔ وہ ایک دن تمام انسانوں کو پکڑ ے گا اور ہر ایک مجبور ہوگا کہ اپنے بارے میں اس کے فیصلہ کو تسلیم کرے۔ دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ آدمی بار بار کسی نہ کسی تکلیف یا حادثہ کی زد میں آجاتا ہے ، آدمی محسوس کرنے لگتاہے کہ خارجی طاقتوں کے مقابلہ میں وہ بالکل بے بس ہے۔اُس وقت آدمی بے اختیار ہو کر خدا کو پکارنے لگتا ہے۔ وہ خدا کی قدرت کے مقابلہ میں اپنے عجز کا اعتراف کرلیتا ہے۔ مگر یہ حالت صرف اس وقت تک رہتی ہے جب تک وہ مصیبتوں کی گرفت میں ہو، مصیبت سے نجات پاتے ہی وہ دوبارہ ویسا ہی غافل اور سرکش بن جاتا ہے جیسا وہ پہلے تھا۔ ایسے لوگوں کے اظہار بندگی کو خدا تسلیم نہیں کرتا۔ کیوں کہ اظہار بندگی وہ مطلوب ہے جو آزادانہ حالات میں کی جائے، مجبورانہ حالات میں ظاہر کی ہوئی بندگی کی خدا کے نزدیک کوئی قیمت نہیں۔ آدمی ایک توجیہہ پسند مخلوق ہے۔ وہ ہر عمل کا ایک جواز تلاش کرتا ہے۔ اگر آدمی سرکشی کو اپنے لیے پسند کرلے تو اس کا ذہن بھی اسی طرف مڑ جائے گا۔ وہ عملاً سرکشی کرے گا اور اس کا ذہن اس کی سرکشی کو درست ثابت کرنے کے لیے اس کو خوب صورت الفاظ فراہم کرتارہے گا۔ اسی کا نام تزئین اعمال ہے۔ آدمی اپنی غلطیوں کو خوش نما الفاظ میں بیان کرکے اپنے کو مطمئن کرلیتاہے کہ وہ حق پر ہے۔ مگر یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص آگ کا انگارہ اپنے ہاتھ میں لے لے اور سمجھے کہ وہ اس کو نہیں جلائے گا، کیوں کہ اس کا نام اس نے سرخ پھول رکھ دیا ہے۔