WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 116 من سورة سُورَةُ هُودٍ

Hud • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ فَلَوْلَا كَانَ مِنَ ٱلْقُرُونِ مِن قَبْلِكُمْ أُو۟لُوا۟ بَقِيَّةٍۢ يَنْهَوْنَ عَنِ ٱلْفَسَادِ فِى ٱلْأَرْضِ إِلَّا قَلِيلًۭا مِّمَّنْ أَنجَيْنَا مِنْهُمْ ۗ وَٱتَّبَعَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ مَآ أُتْرِفُوا۟ فِيهِ وَكَانُوا۟ مُجْرِمِينَ ﴾

“BUT, ALAS, among those generations [whom We destroyed] before your time there were no people endowed with any virtue - [people] who would speak out against the [spread of] corruption on earth -except the few of them whom We saved [because of their righteousness], whereas those who were bent on evildoing only pursued pleasures which corrupted their whole being, and so lost themselves in sinning.”

📝 التفسير:

یہاں پچھلوں سے مراد پچھلی امتیں بالفاظ دیگر پچھلی مسلم قومیں ہیں۔ قوم کا بگاڑ ہمیشہ اس طرح ہوتاہے کہ دنیوی سامان جو خدا کی طرف سے انھیں اس لیے دیا گیا تھاکہ اس سے ان کے اندر شکر کا جذبہ ابھر ے، وہ ان کے لیے سرمستی اور دنیا پرستی پیدا کرنے کا ذریعہ بن گیا۔ ایسی حالت میں مسلم قوم کی اصلاح کے لیے جو کام کرنا ہے اس کا عنوان شریعت کی اصطلاح میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے۔ یہ حکم ایک مسلمان کی اس ذمہ داری کو بتاتا ہے جو اپنے قریبی ماحول کی اصلاح کے سلسلہ میں اس پر عائد ہوتی ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ مسلم معاشرہ میں ہمیشہ ایسے افراد موجود رہنے چاہیے جو مسلمانوں کو خدا اور آخرت کی یاد دلائیں۔ وہ ان کے اخلاق کی نگرانی کریں۔ وہ معاملات میں ان کو راہِ راست پر قائم رکھنے کی کوشش کریں۔ کسی قوم میںایسے اہل ِ خیر کا نہ نکلنا ہمیشہ دو سبب سے ہوتاہے۔ یا تو پوری قوم کی قوم بگڑ چکی ہو اور اس میں کوئی صالح انسان باقی نہ رہا ہو یا صالح افراد موجود تو ہوں مگر عمومی بگاڑ کی وجہ سے وہ زبان کھولنے کی ہمت نہ کرتے ہوں۔ انھیں اندیشہ ہو کہ اگر انھوں نے سچی بات کہی تو قوم کے درمیان وہ بے عزت ہو کر رہ جائیںگے۔ مذکورہ دونوں صورتوں میں قوم خدا کی نظر میں اپنا اعتبار کھو دیتی ہے اور اس کی مستحق ہوجاتی ہے کہ ایک یا دوسری صورت میں وہ عتابِ خداوندی کی زد میں آجائے۔