WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 16 من سورة سُورَةُ هُودٍ

Hud • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِى ٱلْءَاخِرَةِ إِلَّا ٱلنَّارُ ۖ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوا۟ فِيهَا وَبَٰطِلٌۭ مَّا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ﴾

“[yet] it is they who, in the life to come, shall have nothing but the fire -for in vain shall be all that they wrought in this [world], and worthless all that they ever did!”

📝 التفسير:

دین کی دو قسمیں ہیں۔ ایک ملاوٹی دین، دوسرا بے آمیز دین۔ ملاوٹی دین دراصل دنیا کے اوپر دین کا لیبل لگانے کا دوسرا نام ہے۔ وہ دنیا اور دین کے درمیان مصالحت کرنے سے وجود میں آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر زمانہ میں ایسا ہوتاہے کہ ملاوٹی دین کی بنیاد پر بڑے بڑے ادارے قائم ہوتے ہیں۔ مفاد پرست لوگ اس کے ذریعے دین کے نام پر دنیا حاصل کرلیتے ہیں۔ بے آمیز دین کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ بے آمیز دین کی دعوت جب کسی ماحول میں اٹھتی ہے تو وہ صرف ایک نظری سچائی ہوتی ہے۔ معاشی مفادات اور قیادتی مصالح اس کے ساتھ جمع نہیں ہوتے۔ ایسی حالت میں جو لوگ ملاوٹی دین کے نام پر عزت اور مقام حاصل كيے ہوئے ہوں ان کے سامنے جب بے آمیز دین کی دعوت آتی ہے تو وہ سخت متوحش ہوتے ہیں۔ کیونکہ اس کو اختیار کرنے کی صورت میں انھیں نظر آتاہے کہ تمام دنیوی چیزیں ان سے چھن جائیں گی۔ اس اعتبار سے کسی ماحول میں بے آمیز دین کی دعوت کا اٹھنا وہاں ایک نازک امتحان کا برپا ہونا ہے۔ ایسے وقت میں جو لوگ دنیا کی عزت اور دنیا کے مفادات کو قابلِ ترجیح سمجھیں اور بے آمیز دین کا ساتھ نہ دیں ان کی ساری دوڑ دھوپ دنیا کے خانہ میں چلی جاتی ہے۔ کیوںکہ انھوں نے اس دین کا ساتھ دیا جس میں ان کے دنیوی مفادات محفوظ تھے۔ اور اس دین کا ساتھ نہ دیا جس میں انھیں اپنے دنیوی مفادات چھنتے ہوئے نظر آتے تھے۔وہ بظاہر خواہ دینی سرگرمیوں میں مشغول ہوں، اصل مقصود کے اعتبار سے وہ دنیا کے حصول میں مشغول ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسی کوششوں کا آخرت میں کوئی نتیجہ ملنا ممکن نہیں۔ انھوںنے اگرچہ اپنی سرگرمیوں کو دین کے نام سے موسوم کررکھا تھا وہ اپنے قومی میلوں کے اوپر جشن دینی کا بورڈ لگاتے تھے۔وہ اپنی قومی لڑائیوں کو مقدس جنگ کا نام دیتے تھے۔ وہ اپنی قیادتی نمائش کو دینی کانفرنس کہتے تھے، وہ اپنے سیاسی ہنگاموں کو مذہب کی اصطلاحات میں بیان کرتے تھے، وہ اپنے دنیوی جذبات کے تحت دھوم مچاتے تھے اور اس کو خدا اور رسول کے ساتھ جوڑتے تھے۔ مگر یہ ساری تعمیرات دنیاکی زمین میں تھیں، وہ آخرت کی زمین میں نہ تھیں، اس لیے قیامت کا زلزلہ انھیں بالکل برباد کردے گا۔ اگلی دنیا میں ان کا کوئی انجام ان کے حصہ میں نہ آئے گا۔