WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 23 من سورة سُورَةُ هُودٍ

Hud • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ وَأَخْبَتُوٓا۟ إِلَىٰ رَبِّهِمْ أُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلْجَنَّةِ ۖ هُمْ فِيهَا خَٰلِدُونَ ﴾

“Behold, [only] those who attain to faith and do righteous deeds and humble themselves before their Sustainer - [only] they are destined for paradise, and there shall they abide.”

📝 التفسير:

اخبات کے معنی ہیں عاجزی کرنا۔ عربی میں کہتے ہیں ہو خبیت القلب (وہ شکستہ دل ہے)۔ یہی ایمان کا خلاصہ ہے۔ ایمان نہ کوئی وراثت ہے اور نہ کسی لفظی مجموعہ کی لسانی ادائيگی۔ ایمان ایک دریافت ہے۔ آدمی جب اپنے سمع وبصر (بالفاظ دیگر شعور) کو استعمال کرکے خدا کو پاتا ہے اور اس کے مقابلہ میں اپنی حیثیت کا ادراک کرتاہے تو اس وقت اس کے اوپر جو کیفیت طاری ہوتی ہے اسی کا نام عجز (اخبات) ہے۔ عجز خدا کے مقابلہ میں اپنی حیثیت واقعی کی پہچان کا لازمی نتیجہ ہے۔ ایمان، اخبات اور عمل صالح تینوں ایک ہی حقیقت کے مختلف پہلو ہیں۔ ایمان خدا کے وجود اور اس کی صفات کمال کی شعوری دریافت ہے۔ اخبات اس قلبی حالت کا نام ہے جو خدا کی دریافت کے نتیجہ میں لازماً آدمی کے اندر پیدا ہوتی ہے۔ عمل صالح اسی شعور اور اسی کیفیت سے پیدا ہونے والی خارجی صورت ہے۔ آدمی جب خدا کے ذہن سے سوچتاہے۔ جب اس کا دل خدائی کیفیات سے بھر جاتاہے تو اس وقت اس کے عین فطری نتیجے کے طور پر اس کی ظاہری زندگی خدائی عمل میں ڈھل جاتی ہے۔ اسی کا نام عمل صالح ہے۔ جو شخص ایمان، اخبات اور عمل صالح کا پیکر بن جائے وہی خدا کا مطلوب انسان ہے۔ اور وہی وہ انسان ہے جس کو جنت کے ابدی باغوں میں بسایا جائے گا۔ دنیا میں اعلیٰ ترین امتحانی حالات پیدا کرکے یہ دیکھا جارہا ہے کہ کون اپنے آپ کو کیا ثابت کرتاہے۔ ایک گروہ وہ ہے جس نے اپنے سمع وبصر (شعور) کو صحیح طور پر استعمال کرکے حقیقت واقعہ کو جانا اور اپنے آپ کو اس کے مطابق ڈھال لیا۔ یہ دیکھنے اور سننے والے لوگ ہیں۔ دوسرا گروہ وہ ہے جس نے اپنے سمع وبصر کو صحیح طورپر استعمال نہیں کیا۔ اس کو نہ حقیقت واقعہ کی معرفت حاصل ہوئی اور نہ وہ اپنے آپ کو اس کے مطابق ڈھال سکا۔ یہ اندھے اور بہرے لوگ ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ دونوں بالکل مختلف قسم کے انسان ہیں۔ اور دو مختلف انسانوں کا انجام ایک جیسا نہیں ہوسکتا۔