Hud • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ قَالَ سَـَٔاوِىٓ إِلَىٰ جَبَلٍۢ يَعْصِمُنِى مِنَ ٱلْمَآءِ ۚ قَالَ لَا عَاصِمَ ٱلْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ ٱللَّهِ إِلَّا مَن رَّحِمَ ۚ وَحَالَ بَيْنَهُمَا ٱلْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ ٱلْمُغْرَقِينَ ﴾
“[But the son] answered: "I shall betake myself to a mountain that will protect me from the waters." Said [Noah]: "Today there is no protection [for anyone] from God's judgment, save [for] those who have earned [His] mercy!" And a wave rose up between them, and [the son] was among those who were drowned.”
جب کشتی بن کر تیار ہوگئی تو خدا کے حکم سے طوفانی ہوائیں چلنے لگیں۔ زمین سے پانی کے دہانے پھوٹ پڑے۔ اوپر سے مسلسل بارش ہونے لگی۔ یہاں تک کہ ہر طرف پانی ہی پانی ہوگیا۔ تمام لوگ اس میں ڈوب گئے۔ صرف وہ چند انسان اور کچھ مویشی بچے جو حضرت نوح کی کشتی میں سوار تھے۔ حتی کہ حضرت نوح کا بیٹا بھی غرق ہوگیا — خدا کی نظر میں کسی کی قیمت اس کے عمل کے اعتبار سے ہے، نہ کہ رشتہ کے اعتبار سے، خواہ وہ رشتہ پیغمبر کا کیوں نہ ہو۔ جب تمام ڈوبنے والے ڈوب چکے تو خدا نے حکم دیا کہ طوفان تھم جائے، اور طوفان تھم گیا۔ پانی سمندروں اور دریاؤں میں چلا گیا اور زمین دوبارہ رہنے کے قابل ہوگئی۔ طوفانِ نوح کے موقع پر دیکھنے والوں نے یہ منظر دیکھا کہ اونچے پہاڑ پر چڑھنے والے ڈوب گئے اور ہولناک موجوں کے باوجود کشتی میں بیٹھے والے سلامت رہے۔ اس کی وجہ خود پہاڑ میں یا کشتی میں نہ تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ حکم خداوندی کا معاملہ تھا۔ حکم خداوندی اگر پہاڑ کے ساتھ ہوتا تو پہاڑ اپنے چڑھنے والوں کو بچاتا اور کشتی کا سہارا لینے والے ہلاک ہوجاتے۔ مگر اس موقع پر حکم خداوندی کشتی کے ساتھ تھا۔ اس لیے کشتی والے محفوظ رہے اور دوسری چیزوں کی پناہ لینے والے غرق ہوگئے۔ دنیا میں اسباب کا نظام محض ایک پردہ ہے۔ ورنہ یہاں جو کچھ ہورہا ہے براہِ راست خداکے حکم سے ہو رہا ہے۔ انسان کا امتحان یہ ہے کہ وہ ظاہری پردہ سے گزر کر اصل حقیقت کو دیکھ لے۔ وہ اسباب کے اندر خدائی طاقتوں کو کام کرتا ہوا پالے۔