Hud • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ وَنَادَىٰ نُوحٌۭ رَّبَّهُۥ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ٱبْنِى مِنْ أَهْلِى وَإِنَّ وَعْدَكَ ٱلْحَقُّ وَأَنتَ أَحْكَمُ ٱلْحَٰكِمِينَ ﴾
“And Noah called out to his Sustainer, and said: "O my Sustainer! Verily, my son was of my family; and, verily, Thy promise always comes true, and Thou art the most just of all judges!"”
طوفانِ نوح میں جو لوگ غرق ہوئے ان میں خود حضرت نوح کا بیٹا کنعان بھی تھا۔حضرت نوح نے اس کو اپنی کشتی میں بٹھانا چاہا۔ مگر اس کے لیے ڈوبنا مقدر تھا اس لیے وہ نہیں بیٹھا۔ پھر انھوں نے اس کے بچاؤ کے لیے خدا سے دعا کی تو جواب ملا کہ یہ نادانی کا سوال ہے، ایسے سوالات نہ کرو۔ اصل یہ ہے کہ خدا کا فیصلہ اس بنیاد پر نہیں ہوتاکہ جو لوگ بزرگوں کی اولادہیں۔ یا جو کسی حضرت کا دامن تھامے ہوئے ہیں ان سب کو نجات یا فتہ قرار دے کر جنتوں میں داخل کردیا جائے۔ خدا کے یہاں نجات کا فیصلہ خالص عمل کی بنیاد پر ہوتا ہے، نہ کہ نسبی یا گروہی تعلق کی بنیادوںپر۔ دنیا میں اگر نسبی رشتہ کا اعتبار ہے تو آخرت میں اخلاقی رشتہ کا اعتبار۔ طوفانِ نوح اسی لیے آیا تھا کہ انسانوں کے درمیان دوسری تمام تقسیمات کو توڑ کر اخلاقی تقسیم قائم کردے۔ جو عملِ صالح والے لوگ ہیں ان کو خدائی کشتی میں بٹھا کر بچا لیا جائے اورغیر عمل صالح والے تمام لوگوں کو طوفان کی بے رحم موجوں کے حوالے کردیا جائے۔ یہی واقعہ دوبارہ قیامت میں زیادہ بڑے پیمانہ پر اور زیادہ کامل طورپر ہوگا۔