Hud • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَقَدْ أَبْلَغْتُكُم مَّآ أُرْسِلْتُ بِهِۦٓ إِلَيْكُمْ ۚ وَيَسْتَخْلِفُ رَبِّى قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّونَهُۥ شَيْـًٔا ۚ إِنَّ رَبِّى عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ حَفِيظٌۭ ﴾
“"But if you choose to turn away, then [know that] I have delivered to you the message with which I was sent unto you, and [that] my Sustainer may cause another people to take your place, whereas you will in no wise harm Him. Verily, my Sustainer watches over all things!"”
جو لوگ خدا کی بات کو نظر انداز کردیں، خدا بھی انھیں نظر انداز کردیتا ہے۔ یہ واقعہ جو موجودہ دنیا میں جزئی طورپر پیش آتا ہے یہی قیامت میں کلی اور آخری طورپر پیش آئے گا۔ اس وقت تمام سرکش لوگ خدا کی رحمتوں سے دور کرديے جائیںگے۔ اور خدا کی رحمت صرف ان لوگوں کا حصہ ہوگی جو دنیا کی زندگی میں خدا کے تابع اور وفادار بن کررہے تھے۔ اس دنیا میں خدا نے ’’استخلاف‘‘ کا اصول رائج کیا ہے۔ یعنی ایک قوم کو ہٹانے کے بعد دوسری قوم کو اس کی جگہ زمین پر متمکن کرنا۔ دنیا میں یہ تمکن امتحان کی غرض سے وقتی طور پر ہوتا ہے۔آخرت میں خدا کی معیاری دنیا میں یہ تمکن انعام کے طورپر مستقل طور پر سچے اہل ایمان کو حاصل ہوگا۔ موجودہ امتحانی دنیا کا نظام کچھ اس طرح بنا ہے کہ یہاں آدمی ہمیشہ خیر اور شر کے درمیان ہوتا ہے۔ اس کو آزادی ہوتی ہے کہ دونوں میں سے جس راہ کو چاہے اختیار کرے۔ مزید یہ کہ اکثر حالات میں اس دنیا میں شر کا غلبہ ہوتا ہے۔ خیر کی جانب صرف نشانیوں (نظری دلائل) کا زور ہوتاہے۔ دوسری طرف شر کی جانب مادی طاقت موجود ہوتی ہے، وہ بھی اتنی بڑی مقدار میں کہ اس کے علم بردار سرکشی اور گھمنڈ میں مبتلا ہوکر ماحول کے اندر ایسی دباؤ کی فضا پیدا کرتے ہیں کہ عام آدمی حق کی طرف بڑھنے کی جرأت ہی نہ کرے۔