Hud • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ قَالَ يَٰقَوْمِ أَرَءَيْتُمْ إِن كُنتُ عَلَىٰ بَيِّنَةٍۢ مِّن رَّبِّى وَرَزَقَنِى مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًۭا ۚ وَمَآ أُرِيدُ أَنْ أُخَالِفَكُمْ إِلَىٰ مَآ أَنْهَىٰكُمْ عَنْهُ ۚ إِنْ أُرِيدُ إِلَّا ٱلْإِصْلَٰحَ مَا ٱسْتَطَعْتُ ۚ وَمَا تَوْفِيقِىٓ إِلَّا بِٱللَّهِ ۚ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ ﴾
“He answered: "O my people! What do you think? If [it be true that] I am taking my stand on a clear evidence from my Sustainer, who has vouchsafed me goodly sustenance [as a gift] from Himself - [how could I speak to you otherwise than I do]? And yet, I have no desire to do, out of opposition to you, what I am asking you not to do: I desire no more than to set things to rights in so far as it lies within my power; but the achievement of my aim depends on God alone. In Him have I placed my trust, and unto Him do I always turn!”
ماننے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک ہے تقلیدی طورپر ماننا۔ دوسراصحیح سمجھ کر ماننا۔ پہلی صورت میں آدمی کسی بات کو اس لیے مانتا ہے کہ لوگ اس کو مانتے ہیں۔ دوسری صورت میں وہ اس کواس لیے مانتا ہے کہ اس نے خود دلیل کی بنیاد پر پایا ہے کہ وہ بات صحیح ہے۔ اوّل الذکر اگر رسمی اقرار ہے تو ثانی الذکر شعوری دریافت۔ حق کو دلیل (ياشعور) کی سطح پر پانا ہی مومن کا اصل سرمایہ ہے۔ اسی سے وہ زندہ یقین حاصل ہوتا ہے جب کہ آدمی ہر چیز سے بے پروا ہو کر لوگوں کے درمیان کھڑا ہو اور حق کی نمائندگی کرسکے۔ حق کی شعوری یافت ہر دوسری چیز کا بدل ہے۔ جس کو یہ نعمت حاصل ہوجائے اس کو پھر کسی اور چیز کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ عام آدمی’’روٹی‘‘ پر جیتاہے۔ مومن وہ انسان ہے جو دلیل حق پر جیتاہے۔ اس طرح کا رزق (شعوری یافت) ملنے کے بعد آدمی کے لیے ناممکن ہوجاتاہے کہ وہ اس کے خلاف رویہ اختیار کرے۔قول وعمل کا تضاد رسمی ایمان کا نتیجہ ہے اور قول وعمل کی یکسانیت شعوری ایمان کا نتیجہ۔ ’’شقاق‘‘ کی تشریح میں حضرت حسن بصری کا قول ہے کہ میری دشمنی تم کو ایمان کا راستہ چھوڑ دینے پر نہ ابھارے کہ اس کے بعد تم کو وہ سزا ملے جو کافروں کو ملی (لَا يَحْمِلَنَّكُمْ مُعَادَاتِي عَلَى تَرْكِ الْإِيمَانِ فَيُصِيبَكُمْ مَا أَصَابَ الْكُفَّارَ ) تفسیر القرطبی، جلد9، صفحہ 90 داعی چونکہ اپنے زمانہ کے لوگوں کو ایک عام انسان کی مانند نظر آتاہے۔ اس لیے ا س كي ناقدانہ باتوں سے وہ لوگ بگڑ ا ٹھتے ہیں جن کو ماحول میں اونچی حیثیت حاصل ہو۔ ایک معمولی آدمی کی یہ جرأت ان کے لیے ناقابل برداشت ہوجاتی ہے کہ وہ ان پر اور ان کے بڑوں پر تنقید کرے۔ اس وجہ سے ان کے اندر داعی کے خلاف ضد اور نفرت پیدا ہوجاتی ہے۔ کسی آدمی کے اندر اس قسم کی نفسیات کا پیدا ہونا اس کا نہایت کڑے امتحان میں مبتلا کیا جانا ہے۔ کیونکہ ایساآدمی ایک شخص کو حقیر سمجھنے کی وجہ سے اس کی طرف سے آنے والی خدائی بات کو بھی حقیر سمجھ لیتاہے۔ وہ ایک انسان کو نظر انداز کرنے کے نام پر خود خدا کو نظر انداز کردیتاہے۔