Hud • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ وَلَمَّا جَآءَ أَمْرُنَا نَجَّيْنَا شُعَيْبًۭا وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَعَهُۥ بِرَحْمَةٍۢ مِّنَّا وَأَخَذَتِ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ ٱلصَّيْحَةُ فَأَصْبَحُوا۟ فِى دِيَٰرِهِمْ جَٰثِمِينَ ﴾
“And so, when Our judgment came to pass, by Our grace We saved Shu'ayb and those who shared his faith, whereas the blast [of Our punishment] overtook those who had been bent on evildoing: and then they lay lifeless, in their very homes, on the ground,”
حضرت شعیب کی قوم کے لوگ سمجھتے تھے کہ وہ مدین کے مالک ہیں جو چیز انھیں امتحان کی مصلحت کے تحت دی گئی تھی اس کو انھوں نے اپنا مستقل حق سمجھ لیا۔ اس احساس کے تحت انھوںنے آپ کے خلاف جارحانہ تدبیریں کیں۔ انھوںنے آپ کو یہ دھمکی بھی دی کہ ہم تم کو اور تمھارے ساتھیوں کو اپنی سرزمین سے نکال دیں گے (الاعراف، 7:88 ) مگر وہی زمین جس کو وہ اپنی زمین سمجھتے تھے اور جس کے وہ مالک بنے ہوئے تھے، وہاں خدا کے حکم سے ہولناک گڑگڑاہٹ کے ساتھ زلزلہ آیا، جس کے نتیجہ میں یہ پورا علاقہ تباہ ہوگیا۔ وہ خود اپنی دنیا میں اس طرح مٹ کر رہ گئے جیسے کبھی ان کا وجود ہی نہ تھا۔ البتہ قوم کے وہ افراد جنھوں نے حضرت شعیب کی بات مانی تھی اور آپ کے ساتھ ہوگئے تھے ان کو خصوصی نصرت سے بچا لیا گیا۔