Yusuf • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ قَالَ لَنْ أُرْسِلَهُۥ مَعَكُمْ حَتَّىٰ تُؤْتُونِ مَوْثِقًۭا مِّنَ ٱللَّهِ لَتَأْتُنَّنِى بِهِۦٓ إِلَّآ أَن يُحَاطَ بِكُمْ ۖ فَلَمَّآ ءَاتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ ٱللَّهُ عَلَىٰ مَا نَقُولُ وَكِيلٌۭ ﴾
“Said [Jacob]: "I will not send him with you until you give me a solemn pledge, before God, that you will indeed bring him back unto me, unless you yourselves be encompassed [by death]!" And when they had given him their solemn pledge, [Jacob] said: "God is witness to all that we say!"”
گھر لوٹ کر جب انھوںنے دیکھا کہ ان کی رقم ان کی غلّہ کی بوری میں موجود ہے تو وہ بہت خوش ہوئے۔ انھوں نے اپنے والد سے کہا کہ آپ ضرور ہمارے ساتھ بن یامین کو جانے دیں۔ ہم اس کی پوری حفاظت کریں گے۔ اور اپنے حصہ کے علاوہ اس کے حصہ کا بھی مزید ایک اونٹ غلّہ لائیں گے۔ یہ غلّہ جو ہم لائے ہیں یہ تو اخراجات کے لیے تھوڑا ہے۔ حضرت یوسف نے تقسیم کا جو نظام قائم کیا تھا، اس کے تحت غالباً ایسا تھا کہ باہر کے ایک آدمی کو ایک اونٹ غلہ دیا جاتاتھا۔