WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 11 من سورة سُورَةُ الرَّعۡدِ

Ar-Ra'd • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ لَهُۥ مُعَقِّبَٰتٌۭ مِّنۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِۦ يَحْفَظُونَهُۥ مِنْ أَمْرِ ٱللَّهِ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا۟ مَا بِأَنفُسِهِمْ ۗ وَإِذَآ أَرَادَ ٱللَّهُ بِقَوْمٍۢ سُوٓءًۭا فَلَا مَرَدَّ لَهُۥ ۚ وَمَا لَهُم مِّن دُونِهِۦ مِن وَالٍ ﴾

“[thinking that] he has hosts of helpers-both such as can be perceived by him and such as are hidden from him -that could preserve him from whatever God may have willed. Verily, God does not change men's condition unless they change their inner selves; and when God wills people to suffer evil [in consequence of their own evil deeds], there is none who could avert it: for they have none who could protect them from Him.”

📝 التفسير:

دنیا میں قوموں کا عروج وزوال اَلل ٹپ طورپر نہیں ہوتا بلکہ خدا کی نگرانی اور فیصلہ کے تحت ہوتاہے۔ خدا جب کسی قوم کو اپنی نعمت سے نوازتا ہے تو وہ اس نعمت کو اس وقت تک اس کے لیے باقی رکھتا ہے جب تک وہ اپنے اندر اس کی استعداد باقی رکھے۔ استعداد کھو دینے کے بعد وہ قوم لازمی طورپر خدائی نعمت کو بھی کھو دیتی ہے، مثلاًاپنے درمیان اتحاد کھونے کے بعدخارجی دنیا میں رعب سے محروم ہو جانا، وغیرہ۔ دنیا میں کوئی قوم جو کچھ پاتی ہے، خدا کے قانون کے تحت پاتی ہے اور کوئی قوم جوکچھ کھوتی ہے خدا کے قانون کے تحت کھوتی ہے۔ خدا کے سوا یہاں نہ کوئی دینے والا ہے اور نہ کوئی چھیننے والا۔