WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 14 من سورة سُورَةُ الرَّعۡدِ

Ar-Ra'd • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ لَهُۥ دَعْوَةُ ٱلْحَقِّ ۖ وَٱلَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِهِۦ لَا يَسْتَجِيبُونَ لَهُم بِشَىْءٍ إِلَّا كَبَٰسِطِ كَفَّيْهِ إِلَى ٱلْمَآءِ لِيَبْلُغَ فَاهُ وَمَا هُوَ بِبَٰلِغِهِۦ ۚ وَمَا دُعَآءُ ٱلْكَٰفِرِينَ إِلَّا فِى ضَلَٰلٍۢ ﴾

“Unto Him [alone] is due all prayer aiming at the Ultimate Truth, since those [other beings or powers] whom men invoke instead of God cannot respond to them in any way - [so that he who invokes them is] but like one who stretches his open hands towards water, [hoping] that it will reach his mouth, the while it never reaches him. Hence, the prayer of those who deny the truth amounts to no more than losing oneself in grievous error.”

📝 التفسير:

اگر آپ ہاتھ پھیلا کر سمندر کے پانی کو پکاریں تو ایسا کبھی نہیں ہوگا کہ سمندر آپ کی پکار کو سنے اور اس کا پانی سمندر کی گہرائیوں سے نکل کر آپ کی طرف آئے اور آپ کے کھیتوں اور باغوں کو سیراب کرے۔ مگر اسی سمندر کے ساتھ ایسا ہوتاہے کہ قدرت کے قانون کے تحت اس کا پانی نمک کے جز کو چھوڑ کر فضا میں بلند ہوتاہے۔ پھر گرمی اور کشش اور ہواکے عمل سے متحرک ہو کر وہ آپ کی بستی کے اوپر آتاہے اور میٹھے پانی کی صورت میں برس کر آپ کی زمین کو سیراب کردیتاہے۔ اس سے معلو م ہوا کہ سمندر بظاہر عظیم ہونے کے باوجود سراسر عاجز ہے اس کو کسی قسم کا ذاتی اختیار حاصل نہیں۔ یہی اس دنیا کی تمام چیزوں کا حال ہے۔ ایسی حالت میں عقل مند انسان صرف وہ ہے جو خالق کو پوجے، نہ کہ مخلوق کو، جو چیزوں کے رب کو اپنا مرکز توجہ بنائے، نہ کہ خود چیزوں کو۔