Ar-Ra'd • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ قُلْ مَن رَّبُّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ قُلِ ٱللَّهُ ۚ قُلْ أَفَٱتَّخَذْتُم مِّن دُونِهِۦٓ أَوْلِيَآءَ لَا يَمْلِكُونَ لِأَنفُسِهِمْ نَفْعًۭا وَلَا ضَرًّۭا ۚ قُلْ هَلْ يَسْتَوِى ٱلْأَعْمَىٰ وَٱلْبَصِيرُ أَمْ هَلْ تَسْتَوِى ٱلظُّلُمَٰتُ وَٱلنُّورُ ۗ أَمْ جَعَلُوا۟ لِلَّهِ شُرَكَآءَ خَلَقُوا۟ كَخَلْقِهِۦ فَتَشَٰبَهَ ٱلْخَلْقُ عَلَيْهِمْ ۚ قُلِ ٱللَّهُ خَٰلِقُ كُلِّ شَىْءٍۢ وَهُوَ ٱلْوَٰحِدُ ٱلْقَهَّٰرُ ﴾
“Say: "Who is the Sustainer of the heavens and the earth?" Say: "[It is] God." Say: "[Why,] then, do you take for your protectors, instead of Him, such as have it not within their power to bring benefit to, or avert harm from, themselves?" Say: "Can the blind and the seeing be deemed equal? -or can the depths of darkness and the light be deemed equal?" Or do they [really] believe that there are, side by side with God, other divine powers that have created the like of what He creates, so that this act of creation appears to them to be similar [to His]? Say: "God is the Creator of all things; and He is the One who holds absolute sway over all that exists."”
خدا کا مطالبہ انسان سے یہ ہے کہ وہ اس کے آگے جھک جائے۔ یہی ’’جھکنا‘‘ تمام کائنات کا دین ہے۔ اس دنیا کی ہر چیز خداکے حکم کے آگے کامل طورپر جھکی ہوئی ہے۔ اسی جھکاؤ کی ایک علامت ہے چیزوں کے سایہ کا صبح وشام مغرب اور مشرق کی طرف گرنا۔ چیزوں کا یہ سایہ گویا اس سجدہ کو مادی طورپر ممثل کررہا ہے جو انسان سے شعوری طور پر مطلوب ہے۔ اوّل الذکر سجدے کا علامتی روپ ہے اور ثانی الذکر اس کا حقیقی روپ۔ وسیع کائنات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ساری کائنات ایک ہی آفاقی قانون میں بندھی ہوئی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کا خالق اور مالک ایک ہے۔ انسان کا علمی اور عقلی مطالعہ کسی بھی طرح یہ ثابت نہیں کرتا کہ اس کائنات میں ایک سے زیادہ طاقتوں کی کار فرمائی ہو۔ ایسی حالت میں ایک خدا کے سوا مزید خدا ماننا سراسر بے بنیاد مفروضہ ہے۔ ’’آنکھ‘‘ کا مشاہدہ تو صرف ایک خدا کا پتہ دیتاہے۔ اس لیے جو لوگ ایک خدا سے زیادہ خدا مانیں وہ صرف اس بات کا ثبوت دیتے ہیں کہ وہ اندھے ہیں۔ انھوں نے اپنے اندھے پن کی وجہ سے کئی خدا فرض کر ليے ہیں، نہ کہ حقیقی معنوں میں علم اور مشاہدہ کی بنیاد پر۔