Ar-Ra'd • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءًۭ فَسَالَتْ أَوْدِيَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَٱحْتَمَلَ ٱلسَّيْلُ زَبَدًۭا رَّابِيًۭا ۚ وَمِمَّا يُوقِدُونَ عَلَيْهِ فِى ٱلنَّارِ ٱبْتِغَآءَ حِلْيَةٍ أَوْ مَتَٰعٍۢ زَبَدٌۭ مِّثْلُهُۥ ۚ كَذَٰلِكَ يَضْرِبُ ٱللَّهُ ٱلْحَقَّ وَٱلْبَٰطِلَ ۚ فَأَمَّا ٱلزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَآءًۭ ۖ وَأَمَّا مَا يَنفَعُ ٱلنَّاسَ فَيَمْكُثُ فِى ٱلْأَرْضِ ۚ كَذَٰلِكَ يَضْرِبُ ٱللَّهُ ٱلْأَمْثَالَ ﴾
“[Whenever] He sends down water from the sky, and [once-dry] river-beds are running high according to their measure, the stream carries scum on its surface; and, likewise, from that [metal] which they smelt in the fire in order to make ornaments or utensils, [there rises] scum. In this way does God set forth the parable of truth and falsehood: for, as far as the scum is concerned, it passes away as [does all] dross; but that which is of benefit to man abides on earth. In this way does God set forth the parables”
خدا نے اپنی دنیا اس طرح بنائی ہے کہ یہاں مادی واقعات اخلاقی حقیقتوں کی تمثیل بن گئے ہیں۔ جو کچھ اللہ تعالیٰ کو انسان سے شعور کی سطح پر مطلوب ہے، انھیں کو بقیہ دنیا میں مادی سطح پر دکھایا جارہا ہے ۔ یہاں قرآن میں فطرت کے دو واقعات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ایک یہ کہ جب بارش ہوتی ہے اور اس کا پانی بہہ کر ندیوں اور نالوں میں پہنچتا ہے تو پانی کے اوپر ہر طرف جھاگ پھیل جاتی ہے۔ اسی طرح جب چاندی اور دوسری معدنیات کو صاف کرنے کے لیے آگ پر تپاتے ہیں تو اس کا میل کچیل جھاگ کی صورت میں اوپر آجاتاہے۔ مگر جلد ہی بعد یہ ہوتا ہے کہ دونوں چیزوں کا جھاگ، جس میں انسان کے لیے کوئی فائدہ نہیںفضا میں اڑ جاتاہے۔ اور پانی اور دھات اپنی جگہ پر محفوظ رہ جاتے ہیںجو انسان کے لیے مفید ہے۔ یہ فطرت کے واقعات ہیں جن کے ذریعے خدا تمثیل کے روپ میں دکھارہا ہے کہ اس نے زندگی کی کامیابی اور ناکامی کے لیے کیااصول مقرر فرمایاہے۔ وہ اصول یہ ہے کہ اس دنیا میں صرف اس شخص یا قوم کو جگہ ملتی ہے جو دوسروں کے لیے نفع بخشی کا ثبوت دے۔ جو فرد یا گروہ دوسرے انسانوں کو نفع پہنچانے کی طاقت کھو دے اس کے لیے خدا کی بنائی ہوئی دنیامیں کوئی جگہ نہیں۔