WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 30 من سورة سُورَةُ الرَّعۡدِ

Ar-Ra'd • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ كَذَٰلِكَ أَرْسَلْنَٰكَ فِىٓ أُمَّةٍۢ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهَآ أُمَمٌۭ لِّتَتْلُوَا۟ عَلَيْهِمُ ٱلَّذِىٓ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ وَهُمْ يَكْفُرُونَ بِٱلرَّحْمَٰنِ ۚ قُلْ هُوَ رَبِّى لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ مَتَابِ ﴾

“Thus have We raised thee [O Muhammad] as Our Apostle amidst a community [of unbelievers] before whose time [similar] communities have come and gone, so that thou might propound to them what We have revealed unto thee: for [in their ignorance] they deny the Most Gracious! Say: "He is my Sustainer. There is no deity save Him. In Him have I placed my trust, and unto Him is my recourse!"”

📝 التفسير:

جب یہ دنیا دار الامتحان ہے تو اس کا فطری تقاضا یہ ہے کہ حسّی نشانیاں دکھانے کے بعد لوگوں کا فیصلہ کردیا جائے۔ اب اگر لوگوں کے مطالبہ پر خدا فوراً کوئی حسّی نشانی ظاہر کردے اور اس کے بعد بھی لوگ نہ مانیں تو فوراً وہ ہلاکت کے مستحق ہوجائیں گے۔ مگر یہ خدائے رحمان ورحیم کی خاص عنایت ہے کہ وہ لوگوں کے مطالبہ کے باوجود حسی نشانیاں ظاہر نہیں کرتا۔ بلکہ نصیحت اور دلیل کی زبان میں حق کا پیغام پہنچاتا رہتاہے۔ اس طرح لوگوں کو زیادہ سے زیادہ مہلت ملتی ہے کہ وہ اپنی اصلاح کرکے خدا کی رحمتوں کے مستحق بن سکیں۔ ایسی حالت میں داعی کو چاہیے کہ وہ لوگوں کے نادان مطالبہ کی وجہ سے گھبرا نہ جائے۔ وہ خدا کے منصوبہ پر راضی رہتے ہوئے لوگوں کو اس کی طرف بلاتا رہے۔